چین نے برطانیہ کو خبردار کیا ہے کہ ہانگ کانگ کے بارے میں اپنی پالیسی تبدیل نہیں کی تو اُس کو اِس کے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔
برطانیہ نے گزشتہ روز ہانگ کانگ کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کو چین کی طرف سے لگائے گئے سیکیورٹی قوانین پر احتجاج کے طور پر منسوخ کر دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانیہ نے گزشتہ روز ہانگ کانگ کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کو چین کی طرف سے لگائے گئے سیکیورٹی قوانین پر احتجاج کے طور پر منسوخ کر دیا۔ برطانیہ کی طرف سے اس اعلان کے بعد برطانیہ میں چین کے سفیر نے برطانیہ کی جانب سے ہانگ کانگ کے ساتھ ملزمان کی حوالگی کے معاہدے سے دستبردار ہونے کے اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاہدے کی معطلی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے جس کے برطانیہ کو سخت نتائج بھگتنا پڑیں گے۔
برطانوی اقدام پر لندن میں تعینات چین کے سفیر نے اپنے رد عمل میں کہا کہ برطانیہ نے واضح طور پر چین کے معاملات میں مداخلت کی ہے، چین نے کبھی برطانیہ کے داخلی معاملات میں مداخلت نہیں کی لہٰذا برطانیہ کو بھی چین کے لیے یہی رویہ اختیار کرنا چاہیے۔
گزشتہ روز برطانیہ کے سیکریٹری خارجہ ڈومینک راب نے اعلان کیا تھا کہ ان کی حکومت آسٹریلیا، کینیڈا اور امریکہ کے اقدام کی حمایت کرتے ہوئے بیجنگ کے قومی سلامتی کے قوانین کو یکطرفہ طور پر ہانگ کانگ میں نافذ کرنے کے خلاف ہانگ کانگ کے ساتھ حوالگی کے معاہدے کو باضابطہ طور پر معطل کر دے گی۔
واضح رہے کہ چین نے ہانگ کانگ پر ملزمان کی حوالگی سمیت کئی سخت قوانین نافذ کیے ہیں جس پر عالمی قوتوں نے تحفظات کا اظہار کیا ہے جب کہ امریکا، کینیڈا اور آسٹریلیا کے بعد اب برطانیہ نے بھی ہانگ کانگ کے ساتھ حوالگی کے معاہدے کو معطل کر دیا ہے۔

Post a Comment
اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں