انقرہ: ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے اعلان کیا ہے کہ تاریخی عمارت آیا صوفیہ میں 24 جولائی بروز جمعہ کو پہلی نماز ادا کی جائےگی۔

ترک میڈیا کے مطابق صدر طیب اردوان نے کہا ہے آیا صوفیہ کو مسجد میں تبدیل کرنے  کیلئے اپنا خود مختار حق استعمال کیا۔ 

ترکی کے صدررجب طیب ایردوان نے ساتھ ہی خبردار کیا ہے کہ آیا صوفیہ کے اقدام پر تنقید ہماری آزادی پر حملہ تصور ہو گی۔

قبل ازیں امریکا، فرانس سمیت اقوام متحدہ نے ترکی سے اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس کی حیثیت تبدیل نہ کرے۔

عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق عدالتی فیصلے کے بعد جیسے ہی طیب اردوان نے صدارتی حکم نامے پر دستخط کیے تو ترک قوم کی بڑی تعداد  نے دیوانہ وار آیا صوفیہ کے باہر اکھٹی ہو گئی اور اس موقع پر انتہائی پرجوش انداز میں ترک صدر کے حق میں نعرے بازی کی۔

عالمی خبررساں ایجنسی کے مطابق آیا صوفیہ کے باہر ہزاروں کی تعداد میں موجود مرد و خواتین نے نماز کی ادائیگی بھی کی۔

آیا صوفیہ کے باہر باجمات نماز کی ادائیگی کے بعد ترک شہریوں نے ملکی اور غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پہلی نماز کی ادائیگی کے بعد فخرمحسوس کر رہے ہیں جبکہ ایک شہری کا کہنا تھا کہ یہ کام بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھا۔

ترک میڈیا سے شہری نے اپنے جذبات بیان کرتے ہوئے کہا کہ آیا صوفیہ کے سامنے نماز کی ادائیگی ایک حیرت انگیز احساس ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ ایسا محسوس ہوا کہ جیسے استنبول دوبارہ فتح ہوا ہے۔

Post a Comment

اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں

 
Top