نئی دہلی: خطے میں پڑوسی ممالک کے ساتھ مسائل پیدا کرنے والے ملک بھارت کو بڑا دھچکا، ایران نے بھارت کو چاہ بہار ریل پراجیکٹ سے الگ کر دیا۔
بھارت اور ایران کے درمیان 4 سال قبل یہ معاہدہ اس وقت طے پایا تھا جب بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے تہران کا دورہ کیا تھا اور اس پر نریندر مودی کے علاوہ ایرانی صدر حسن روہانی اور افغانستان کے صدر اشرف غنی نے بھی دستخط کیے تھے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ایران نے بھارت کو چاہ بہار ریل منصوبے سے الگ کر دیا ہے، بھارت کی جانب سے فنڈز کی تاخیر کے باعث ایران کو یہ قدم اٹھانا پڑا، بھارت کو پراجیکٹ سے جدا کرنے کے بعد ایرانی حکومت نے اپنے طور پر ریل لائن کی تعمیر کا فیصلہ کر لیا ہے۔
اس معاہدے کے تحت افغانستان کی سرحد کے ساتھ چاہ بہار سے زاہدان تک ریلوے لائن کی تعمیر ہونی ہے تاہم اب تک نہ تو اس منصوبے کا آغاز کر سکا اور نہ ہی اس کے لیے بھارت کوئی فنڈز جاری کر سکا۔
جس کی وجہ سے ایران نے پراجیکٹ شروع نہ کرنے اور فنڈنگ میں تاخیر کرنے پر بھارت کو اس پراجیکٹ سے الگ کر دیا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق پورا پراجیکٹ مارچ 2022ء تک مکمل ہوگا اور ایران اس ریلوے لائن کو بھارت کے بغیر مکمل کرے گا۔

Post a Comment
اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں