الجزیرہ کے مطابق جنرل یوسف ریج کا قافلہ موغادیشو میں جا رہا تھا کہ خودکش حملہ آور نے بارود سے بھری کار ٹکرانے کی ناکام کوشش کی، القاعدہ سے منسلک دہشتگرد گروپ الشباب نے حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق صومالی فوج کے ترجمان کرنل عبدیقانی علی کا کہنا ہے، کہ حملہ گزشتہ روز ہوا، آرمی چیف جنرل یوسف ریغ موغادیشو کے علاقے حدان میں واقع ایک فوجی ہسپتال کے نزدیک سے گزر رہے تھے، اس دوران خودکش بمبار نے اپنی بارود سے بھری کار کو ان کے قافلے میں شامل گاڑیوں سے تیزی سے ٹکرانے کی ناکام کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بارود سے بھری کار جب وفد کی طرف تیزی سے بڑھ رہی تھی تو آرمی چیف کے گارڈز نے فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں حملہ آور مارا گیا اور کار دھماکے سے اڑ گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ آرمی چیف اور ان کے گارڈ محفوظ رہے۔ جبکہ ایک شہری جاں بحق ہوا ہے جبکہ نصف درجن افراد زخمی ہوگئے، تاہم ان کی حالت کے بارے میں کچھ پتہ نہیں۔ 

خیال رہے کہ جنرل یوسف ریج کو گذشتہ برس اگست میں 32 سال کی عمر میں آرمی چیف مقرر کیا گیا تھا، جو ملک کی تاریخ میں کم عمر ترین آرمی چیف ہیں۔

Post a Comment

اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں

 
Top