وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ دیامر بھاشا ڈیم ملک کا تیسرا بڑا ڈیم ہوگا، اس کے بعد ہم دریاؤں پر ڈیمز بنانے جا رہے ہیں۔
وزیرعظم عمران خان چلاس میں دیامر بھاشا ڈیم کے سائٹ وزٹ پر پہنچے جہاں انہوں نے عوامی اجتماع سے خطاب کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ وہی قوم ترقی کرتی ہے جو مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبے بناتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں حکومتوں نے غلط فیصلے کیے جس کے باعث ہم ترقی میں دیگر ممالک سے پیچھے رہ گئے، 90 کی دہائی میں کیے گئے فیصلوں سے ملک کو نقصان ہوا اور معیشت کمزور ہوئی۔
وزیراعظم نے بتایا کہ ہم ایک اور مشکل فیصلہ کرتے ہوئے دیامر بھاشا ڈیم بنانے جا رہے ہیں، اس کو بنانے کا فیصلہ40 سال پہلے ہوا تھا اور کام آج شروع ہوا، دیامر بھاشا ڈیم کے بعد مزید بھی بنائے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ مشکل فیصلے کرنے والی قومیں ہی ترقی کرتی ہیں، چین کی ترقی کی مثال ہمارے سامنے ہے۔
عمران خان نے کہا کہ بدقسمتی سے ہم نے ماضی میں قلیل مدتی فیصلے کیے، نوے کی دہائی میں تیل سے بجلی بنانے کے غلط فیصلے کیے گئے۔
عمران خان نے بتایا کہ ہماری حکومت آئی تو پاکستان کا خسارہ 20 ارب ڈالر تھا، دریاؤں سے بجلی بنانے کے بجائے تیل پر بجلی بنانے کو ترجیح دی، غلط فیصلوں سے ملک کی صنعتی ترقی کو نقصان پہنچا۔
انہوں نے کہا کہ دیامر بھاشا ڈیم ملک کا تیسرا بڑا ڈیم ہوگا، ہم نے ملک میں 10 ارب درخت لگانے کا فیصلہ کیا ہے، کورونا کہ وجہ سے شٹ ڈاون کرنے سے بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے۔
عمران خان نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کو کہتا ہوں ایس اوپیز کے تحت سیاحت کو کھولیں، سیاحت کے لیے ایس او پیز مرتب کیے جائیں۔

Post a Comment
اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں