برلن: ہنگری کے طبی ماہر بوٹونڈ روسکا کی تحقیق سے دنیا میں اندھے پن کا علاج ممکن ہو سکتا ہے۔ اس تاریخ ساز تحقیق پر انہیں جرمنی کی ایک کوربر فاؤنڈیشن کی طرف سے ایک ملین یورو کے انعام سے نوازا گیا ہے۔

غیر ملیکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق رواں سال جرمنی کی کوربر فاؤنڈیشن کا انعام برائے یورپین سائنس جیتنے والے سائنسدان کا نام بوٹونڈ روسکا ہے۔


بوٹونڈ روسکا کو ایک ملین پاؤنڈ کا انعام جرمنی کے شہر ہیمبرک میں دیا گیا۔

بوٹونڈ روسکا سوئس شہر بازل میں اپنی تحقیق پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے جینیاتی تھراپی کے ذریعے خلیات کو ری پروگرام کرنے کا طریقہ دریافت کیا ہے، جس سے نابینا افراد کا علاج ممکن ہو سکے گا۔ اس طریقہ علاج میں آنکھ میں موجود حساس رسیپٹرز روشنی پر ردعمل ظاہر کرنا شروع کر دیتے ہیں اور یوں نابینا افراد کی آنکھوں کے ریٹنا دوبارہ متحرک ہو سکتے ہیں۔

بوٹونڈ روسکا کا کہنا تھا کہ  انہوں نے تحقیق کے دوران اتنی کامیابی حاصل کرلی ہے کہ نابینا شخص کو بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی کی طرح نظر آنے لگتا ہے، یعنی وہ رنگ محسوس نہیں کرسکتا۔

 ہنگری کے اس سائنسدان کے مطابق اس طریقہ کار کی ٹیسٹنگ کے لیے نابینا افراد پر کلینیکل تجربات شروع کیے جا چکے ہیں۔ کوربر فاؤنڈیشن نے ایک بیان میں کہا، ''روسکا کی تحقیق سے ایک مرتبہ پھر یہ امید پیدا ہو گئی ہے کہ اس نئے طریقہ علاج سے نابیناؤں کو بصارت مل سکتی ہے۔‘‘

یاد رہے کہ جرمن کوربر فاؤنڈیشن پرائز پہلی مرتبہ انیس سو پچاسی میں دیا گیا تھا، اس ایوارڈ کا مقصد ایسے سائنسدانوں کی حوصلہ افزائی کرنا تھا، جن کی تحقیق انسانیت کا مستقبل بدل سکتی ہے۔


Post a Comment

اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں

 
Top