اسلام آباد: کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی پر ملک بھر میں مزید 13 تعلیمی ادارے بند کر دیئے گئے، حفاظتی انتظامات پر عمل درآمد نہ کرنے کے باعث سیل تعلیمی اداروں کی تعداد 35 ہوگئی۔

تفصیلات کے مطابق نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرکا کہنا ہے کہ کوروناایس اوپیزپرعمل نہ کرنےوالے13تعلیمی ادارےبند کردیئے گئے ہیں ، 24گھنٹے میں 10 تعلیمی ادارے کے پی اور 3سندھ میں بند کیےگئے، احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنے پر وبا تعلیمی اداروں میں پھیلی۔

این سی او سی کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 752 کورونا کیسز سامنے آ گئے، مزید 9افراد اس موذی وباء کے سامنے زندگی کی بازی ہار گئے جبکہ 514مریض اس بیماری سے شفایاب ہو گئے۔

محکمہ صحت خیبرپختونخوا کےمطابق صوبے کے بعض تعلیمی اداروں میں کورونا کیسز رپورٹ ہوئے ہیں اور متاثرہ اسکولز کو بند کرنے کی سفارش کر دی گئی ہے۔

پشاور، قبائلی ضلع ٹانک اور دیربالا میں سرکاری اسکولز بند کرنے کی سفارش کی  گئی ہے۔ محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ 15 ستمبر کو 14 اضلاع کے اسکولز سے ایک ہزار236نمونے لیے گئے تھے۔ 13 اسکول ٹیچرز میں کورونا ٹیسٹ مثبت اور 623 کےمنفی آئے تھے۔600کورونا ٹیسٹوں کے نتائج ابھی آنا باقی ہیں۔

پشاور کے نجی اسکول میں بھی کورونا کے 2 کیسز رپورٹ ہوئے۔ محکمہ صحت نے 2اسکول اور2 کلاس رومز کو 5 دنوں کے لیے بند کرنے کی سفارش کی ہے۔

متاثرہ اسکولزمیں 7 اساتذہ میں کورونا کی تصدیق ہوئی ہے، کورونا سے متاثرہ اساتذہ کو گھروں میں قرنطین کیا گیا ہے۔

دوسری جانب وزیرتعلیم ومحنت سندھ سعید غنی نےنیوکراچی میں گورنمنٹ گرلزکالج کا اچانک دورہ کیا اور کہا کالج میں کلاسوں میں سماجی فاصلےکو برقرار رکھاجائے، ایس اوپیزپرعمل کرکے خود اوراپنےخاندان کوبھی محفوظ بناسکتےہیں۔

سعید غنی مجیب النسااکرام گورنمنٹ گرلزسیکنڈری کیمپس اسکول نیوکراچی بھی گئے ، اسکول میں طالبا ت کے ماسک پہنے ہونے، سینیٹائزرکی موجودگی پرپرنسپل کوسراہا۔

اس موقع پر صوبائی وزیر نے کہا کہ سرکاری اسکول کے لئے یہ اسکول ایک ماڈل اسکول بن سکتا ہے، جیسےانتظامات کئے گئےہیں یہ ایک قابل ستائش اقدام ہے۔

گذشتہ روز بھی کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے پر ملک بھر میں 22 تعلیمی اداروں کو بند کیا گیا تھا، سب سے زیادہ 16 تعلیمی ادارے خیبر پختونخواہ میں بند کیے گئے جبکہ آزاد کشمیر میں 5 اور اسلام آباد میں 1 ادارہ بند کیا گیا تھا ۔

خیال رہے کہ ملک بھر میں کورونا وائرس کے باعث 6 ماہ سے بند تعلیمی ادارے 15 ستمبر سے کھول دیے گئے تھے، پہلے مرحلے میں احتیاطی تدابیر کے ساتھ ثانوی و اعلیٰ ثانوی اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں کھولی گئی ہیں۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے جاری ایس او پیز کے مطابق ایک کلاس روم میں اگر 40 بچے پڑھتے ہیں تو ایک دن 20 بچے آئیں گے اور اگلے دن 20 بچوں کو اسکول بلایا جائے گا۔

ایس او پیز کے مطابق بچوں میں کھانسی یا بیماری کی علامات ظاہر ہونے پر انہیں اسکول آنے سے روک دیا جائے گا۔

حکومت کی جانب سے جاری کی گئی ہدایات پر عملدر آمد کو یقینی بنانے کے لیے محکمہ تعلیم کی مختلف ٹیمیں اسکولوں کا دورہ کر رہی ہیں اور ایس او پیز پر عملدر آمد کا جائزہ لے رہی ہیں۔

Post a Comment

اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں

 
Top