ترکی نے کہاہے کہ امریکہ کو قبرص کے معاملے پرغیرجانبدارانہ موقف اختیارکرناچاہیے۔

ترکی کی وزارت خارجہ نے کہاکہ امریکہ کے حالیہ اقدامات سے مشرقی بحیرہ روم میں کشیدگی میں اضافہ ہواہے۔

ترکی وزارت خارجہ کے ترجمان حامی آق  سوئے نے کہا ہے کہ جنوبی قبرصی یونانی انتظامیہ اور امریکہ کے درمیان طے پانے والا میمورینڈم مشرقی بحیرہ روم میں امن و استحکام  کی کوئی خدمت نہیں کرے گا"۔

آق سوئے نے تحریری جواب میں کہا ہے کہ  12 ستمبر کو جنوبی قبرصی یونانی انتظامیہ اور امریکہ کے درمیان طے پانے والا اور"برّی، بحری و بندرگاہ سلامتی مرکز"  کے قیام پر مبنی سمجھوتہ  قبرص کے ترک فریق  کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔ سمجھوتہ  مشرقی بحیرہ روم میں امن و استحکام  کی کوئی خدمت نہیں کرے گا اور مسئلہ قبرص کے حل کو بھی نقصان پہنچائے گا۔

آق سوئے نے مزید کہا ہے کہ حالیہ دنوں میں امریکہ کی طرف سے جنوبی قبرصی یونانی انتظامیہ سے اسلحے کی پابندی ہٹانے اور یونانی فریق کو فوجی تربیتی پروگرام میں شامل کرنے جیسے اقدامات نے جزیرے میں موجود دو عوام کے درمیان توازن کو بگاڑا اور مشرقی بحیرہ روم کے تناو میں اضافہ کیا ہے۔

آق سوئے نے کہا ہے کہ امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو  کا جزیرے کے دورے کے دوران قبرصی ترک فریق کے ساتھ  ملاقات  نہ کرنا بھی مرکز توجہ بنا ہے۔ جزیرے میں یونانیوں کے ساتھ مساوی حقوق کے حامل قبرصی ترکوں  کو نظر انداز کر کے اٹھائے گئے ان اقدامات کا واحد نتیجہ یونانیوں کے عدم مفاہمتی روّیے کی حوصلہ افزائی  ہو گا۔ یہ بات بھی حتمی ہے کہ اس نوعیت کا روّیہ یونانی فریق کو کسی بھی مسئلے کے حل کے لئے مفاہمتی روّیہ اختیار کرنے کی حوصلہ افزائی نہیں کرے گا۔

ترجمان حامی آق سوئے نے کہا ہے کہ ہم امریکہ کو جزیرہ قبرص میں روایتی طور پر جاری غیر جابندارانہ پالیسی کی طرف رجوع کرنے اور مسئلہ قبرص کے حل کی کوششوں میں کردار ادا کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے رواں ماہ کے شروع میں امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیونے کہاتھا کہ امریکہ قبرص پرتینتیس سال سے ہتھیاروں کی فراہمی پرعائدپابندی اٹھالے گااوراُس کے ساتھ سیکیورٹی تعاون کو توسیع دے گا۔



Post a Comment

اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں

 
Top