سینیٹ اجلاس میں زیادتی کے واقعات میں ملوث ملزمان کو سرے عام پھانسی کی سزا دینے کے معاملے پر سیاسی جماعتیں تقسیم دکھائی دیں
اسلام آباد: سینیٹ میں اپوزیشن جماعتوں نے سی سی پی او لاہور کی معافی کو مسترد کرتے ہوئے حکومت سے انہیں فوری عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کردیا جبکہ زیادتی کے واقعات میں ملوث ملزمان کو سرے عام پھانسی کی سزا دینے کے معاملہ پر سیاسی جماعتیں تقسیم دکھائی دیں ، پاکستان پیپلزپارٹی نے زیادتی کے ملزمان کو سرعام پھانسی دینے کی سزا کی مخالفت کردی۔
سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کا کہنا تھا کہ سی سی پی او کہتے رہے وہ خاتون رات کو باہر گئی کیوں؟ نئے پاکستان سے پیغام دیا گیا کہ خاتون اور بچے تحفظ کے حقدار نہیں، ملزم عابد علی تو کھلے عام پھر رہا ہے، ابھی تک اصل مجرم گرفتار نہیں ہوا۔
انہوں نے کہا کہ پیغام آیا ہے کہ سرعام پھانسی دی جائے، میری جماعت اس پر یقین نہیں رکھتی، پورے ملک کی توجہ اس طرف مبذول کی جارہی ہے کہ سرعام پھانسی ہوگی، ضیا دور میں سرعام پھانسی دی گئی، سرعام پھانسی سے جرائم کم نہیں ہوئے بلکہ بڑھے۔
شیری رحمان کا کہنا تھا کہ یہ ایک سرکس تھا جو ضیا الحق نے لگایا تھا، ایک بچے پپو کو ریپ کرنے والوں کو لاہور میں سرعام پھانسی دی گئی، اس کے فوراً بعد ریپ بڑھا اور ساتھ ہی 11 کیسز رپورٹ ہوئے۔
اجلاس میں سانحہ موٹروے پر اظہار خیال کرتے ہوئے مسلم لیگ نے کے رہنما سینیٹرپرویز رشید نے کہا کہ ادراوں کا کام عوام کی نمائندگی کرنا ہے اسٹیبشلمنٹ کی نمائندگی کرنے کے دوسرے ادارے موجود ہیں وہ ادارے آئینی حدود سے باہر آکر تجاوز کرکے اپنی مفادات کا تحفظ کر سکتے ہیں لیکن عوام کے مفاد کا تحفظ کرنے والے اداروں کو ہم نے کمزور کیا اور ان کی آواز دبانے کی کوشش کی۔
پیپلزپارٹی کے سینیٹر رضا ربانی اور شیری رحمان نے زیادتی کے ملزمان کو سرعام پھانسی کی سزا دینے کی مخالفت کی۔ میاں رضا ربانی نے کہا کہ سرعام پھانسی دینا زیادتی کے واقعات روکنے کا حل نہیں۔ سرعام پھانسی سے معاشرے میں ظلم کو مزید فروغ ملے گا۔انہوں نے بھی سی سی پی لاہور کو ہٹانے کا مطالبہ کیا ۔شیری رحمن نے کہاکہ سرعام پھانسیوں سے کبھی جرائم میں کمی نہیں ہوئی،جب ہم کہتے ہیں کہ سر عام پھانسی کیوں دی جائے تو کہا جاتا ہے کہ یورپی یونین کے کہنے پر سرعام پھانسیوں کی مخالفت کرتے ہیں۔
ایم کیوایم کے بیرسٹر سیف نے کہا کہ زینب کیس کی طرح سانحہ موٹروے پر بھی سیاست کی گئی ہی کیا پولیس اور عدالتی نظام میں خرابیاں ڈھائی سال میں پیدا ہوئیں سانحہ ماڈل ٹائون میں کیا ہوا ان پولیس افسران کا کیا احتساب ہوا اگر سی سی پی او کو لٹکانے سے مسائل حل ہوتے ہیں تو کلمہ چوک پر لٹکا دیں،سانحہ موٹروے پر بحث میں دیگر حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے بھی حصہ لیا اور زیادتی میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرکے سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا۔

Post a Comment
اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں