نیویارک: بھارت کی سر توڑ کوششوں کے باوجود اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے ایجنڈے میں کشمیر کو حل طلب تنازع کے طور پر شامل کرلیا گیا ہے اور اس طرح بھارت کو شرمناک ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 75 ویں سالانہ اجلاس کا آغاز ہوگیا ہے، نیویارک میں ہونے والا یہ اجلاس کورونا وبا کے باعث ورچوئل ہوگا جس میں ارکان آن لائن شرکت کرسکیں گے۔

بھارت نے اپنے گزشتہ برس 5 اگست کے اقدامات اور کشمیریوں پر مظالم پر پردہ ڈالنے کے لیے رواں برس جنرل اسمبلی کے اجلاس میں کشمیر کا ایجنڈا شامل نہ کرنے کے لیے سفارتی سطح پر لابنگ اور بھرپور کوششیں کیں جو ناکام رہیں اور کشمیر کو حل طلب تنازع کے طور پر ایجنڈے میں شامل کرلیا گیا۔

خیال رہے کہ کونسل کی قرارداد 47، جو مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کا تقاضہ کرتی ہے 21 اپریل 1948 کو منظور کی گئی تھی۔

اقوام متحدہ کی 75 ویں جنرل اسمبلی (یو این جی اے) میں اپنے خطاب میں وزیر اعظم عمران خان ایک مرتبہ پھر کشمیری عوام کے مسائل اور بھارت کی وسیع پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خاتمے کے لیے عالمی برادری سے اقدام اٹھانے کا مطالبہ کریں گے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے منیر اکرم نے کہا کہ وزیر اعظم 5 اگست 2019 کو اٹھا ئے گئے بھارتی اقدام، جس میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی گئی تھی، کو ختم کرنے کی کوشش کریں گے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان 25 ستمبر کو یو این جی اے سے خطاب کریں گے اور غیر قانونی فنانسنگ سے متعلق ایک اعلی سطح اجلاس اور 'بائیو ڈائیورسٹی سسمٹ' میں شرکت کریں گے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 75 ویں اجلاس کے لیے صدر کا انتخاب پہلے ہی ہو چکا ہے، رواں سال کے لیے منتخب ہونے والے صدر کا تعلق ترکی سے ہے۔ ترکی کے ڈپلومیٹ اور سیاست دان 69 سالہ وولکن بوزکیر نے 193 ارکان میں سے 178 ووٹ حاصل کیے تھے۔ ترکی نے پہلی بار اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدارت حاصل کی ہے۔



Post a Comment

اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں

 
Top