تفصیلات کے مطابق تُرک ڈرامہ سیریز ’ارطغرل غازی‘ نے گنیز بُک آف ورلڈ ریکارڈ میں جگہ بنالی ہے۔
’ارطغرل غازی‘ تاریخ کا بہترین ڈرامہ ہونے پر گنیز ورلڈ ریکارڈ کے لئے منتخب ہوا ہے جس کو دیکھنے والوں کی تعداد 30 لاکھ تک پہنچ چکی ہے اور دنیا بھر کی 39 زبانوں میں اس کا ترجمہ کیا گیا ہے، جو ایک ریکارڈ ہے۔
یاد رہے پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر پاکستان میں رمضان المبارک میں اس سیریز کو سرکاری ٹی وی چینل پر نشر کیا گیا۔
وزیر اعظم عمران خان نے ڈرامے کے حوالے سے کہا کہ یہ ڈرامہ ہمارے اسلامی اقدار کی عکاسی کرتا ہے۔
مسلم تاریخ سے شغف رکھنے والے پہلے ہی اس سیریز کے دلدادہ ہیں اور تقریباً پوری دنیا کو اس ڈرامے نے اپنی جانب راغب کیا ہوا ہے۔
اس ڈرامے کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ ٹی آر ٹی کے ڈپٹی ڈائرکٹر جنرل ابراہیم ایرن کے مطابق یہ ڈرامہ 60 سے زائد ممالک میں ٹی وی چینلز پر دکھایا جا رہا ہے۔ اب تک دنیا کے 78ممالک میں یہ سیریز دیکھی جا رہی ہے جس میں مستقل اضافہ ہو رہا ہے۔
ارطغرل اپنے پلاٹ ، اپنی پروڈکشن اور اداکاری کے اعتبار سے بلاشبہ ایک شاہکار ہے۔ ’ارطغرل‘ ترکی کے خانہ بدوش قبیلے ’قائی‘ کی کہانی ہے۔
قائی قبیلہ ایک جنگجو قبیلہ ہے جو ایک طرف بے رحم موسموں کے نشانے پر ہے اور دوسری جانب منگولوں اور صلیبیوں کے نشانے پر ہے۔
ڈرامے کا یہ تہذیبی پہلو اتنا شاندار ہے کہ 2007 میں نیویارک ٹائمز میں ولیم آرمسٹرانگ نے لکھا کہ طیب اردوان اور ترکی کی نفسیات جاننے کے لیے ’ارطغرل‘ ڈرامہ دیکھ لیجیے۔
اس بیان نے پروپگینڈے کی ایک صورت اختیار کر لی جس کے بعد اردوان نے ’ارطغرل‘ کے خلاف ہونے والے اس سارے پروپیگنڈے کے جواب میں صرف ایک فقرہ کہا کہ’جب تک شیر اپنی تاریخ خود نہیں لکھیں گے تب تک شکاری ہی ہیرو بنے رہیں گے۔

Post a Comment
اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں