لندن سے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے مسلم لیگ ن کی سینٹرل ورکنگ کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے قائد مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ ہمارا مقابلہ عمران خان سے نہيں انہیں ہم پر مسلط کیا گیا ہے، اليکشن اور مينڈيٹ چوری کيا گيا۔
PMLN CWC - Live https://t.co/xiIm26XvBx
— PML(N) (@pmln_org) October 1, 2020
نواز شریف نے کہا کہ ان کا مقابلہ سلیکٹڈ عمران خان سے نہیں، جواب عمران خان کو لانے والوں کو دینا ہوگا، عمران خان کٹھ پتلی ہے، مہنگائی کے ذمہ دار اسے لانے والے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ عوام کا مینڈیٹ چوری کرنے والوں کو سلام نہیں کرتے، سلام اسے کرتے ہیں جو آئین اور قانون کا احترام کرتا ہے۔
نواز شریف نے کہا کہ ملکی صورتحال دیکھ کر دل غمگین ہوتا ہے، شہباز شریف ناکردہ گناہوں کی سزا میں جیل میں ہیں، بی آر ٹی 6 سال سے مکمل نہیں ہوا، کبھی آگ لگ جاتی ہے، چھتیں ٹوٹ جاتی ہیں، ہمارے تین منصوبوں سے زیادہ خرچہ پشاور پر ہوا ہے۔
نواز شریف نے کہا کہ سلیکٹڈ وزیراعظم سے پوچھیں ، غریب کے گھر میں فاقہ کشی ہورہی ہے، بچے اسکول نہیں جاسکتے، ریاستہ مدینہ کے دعوے ہیں اور حالات یہ ہیں کہ لوگ سکون سے سو نہیں سکتے، انہوں نے ملک کا اور کشمیر کا بیڑا غرق کردیا ہے، حکومت نے ملک کو تباہ و بردباد کردیا، ڈیڑھ کروڑ لوگ بے روزگار ہوگئے۔
سابق وزیراعظم کا کہنا ہے کہ مجھے کوئی چپ کرانے کي اب کوشش نہ کرے میں چپ نہيں رہوں گا، عمران خان جواب دیں، ایک کروڑ نوکریاں دینے کے دعوے اور وعدے کرنے والوں نے ڈيڑھ کروڑ افراد کو بے روزگار کردیا ہے؟۔
نواز شریف نے پارٹی کارکنان سے سوال کیا کہ کیا میرا ساتھ دو گے؟، آج آپ وعدہ کريں گے کل قوم وعدہ کرے گی، آپ لوگوں کو ميرے ساتھ اور مجھے آپ کے ساتھ چلنا ہے، پاکستانی عوام ان مصيبتوں سے نجات چاہتی ہے، آپ مزيد تاخير کے متحمل نہيں ہوسکتے۔
نواز شریف نے مزید کہا کہ مجھے اب کسی بھی چيز کی پرواہ نہيں، اگر آپ ساتھ ديں گے تو ميں کبھي پيچھے نہيں ہٹوں گا، آر ٹی ایس بند کرکے الیکشن میں شکست دلوائی گئی، مسلم ليگ ن بہت سی سيٹوں پر جیتی ہوئی تھی، کئی مقامات پر بہت بڑی تعداد ميں مسترد ووٹ ملے۔
ن لیگی قائد کا کہنا تھا کہ کيسے بندہ کہے کہ مجھے انصاف ملے گا، آج ہم دنيا بھر ميں رسوا ہورہے ہيں، جنوبی ايشياء ميں سب سے پسماندہ ملک پاکستان ہے، مجھے بيٹے سے تنخواہ نہ لينے پر فارغ کرايا گيا، ايسے شخص کو بٹھايا جو ہر بات پر سر تسليم خم کرتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو گوشت تو دور کی بات، پلاؤ سال میں ایک بار نصیب ہوتا ہو گا، 30 ہزار روپے ایک طرف رکھیں، دوسری طرف ضروریات زندگی رکھیں، 30 ہزار روپے ختم ہو جائیں گے، ضروریات زندگی پوری نہیں ہوں گی، لوگ کیا کریں گے، بھیک مانگیں گے، قرضے لیں گے، سلیکٹڈ وزیراعظم سے پوچھیں چینی 50 روپے سے 100 روپے کلو کیسے ہو گئی، آج عوام کی زندگی اجیرن ہوگئی ہے۔
Post a Comment
اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں