اسلام آباد: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے افغانستان کی اعلیٰ سطح مفاہمتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے ملاقات کی جس میں افغان امن عمل، بین الافغان مذاکرات سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

افغان اعلیٰ سطح مفاہمتی کونسل کے مرکزی عہدیداران بھی اس ملاقات میں موجود تھے۔ سیکرٹری خارجہ سہیل محمود، پاکستان کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان ایمبیسڈر محمد صادق، افغانستان میں پاکستان کے سفیر منصور احمد خان، ترجمان وزارت خارجہ زاہد حفیظ چودھری اور وزارت خارجہ کے سینئر افسران بھی اس ملاقات میں شریک تھے۔

تفصیل کے مطابق افغانستان کی اعلیٰ سطح مفاہمتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ وفد کے ہمراہ وزارتِ خارجہ پہنچے جہاں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے معزز مہمان کا خیر مقدم کیا۔ 

خیال رہے کہ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کا بطور چیئرمین مفاہمتی کونسل، پاکستان کا یہ پہلا دورہ ہے۔ اس وفد میں افغان قومی مفاہمت کونسل کے مرکزی عہدیداران شامل ہیں۔

ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے افغان امن عمل کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے پاکستان کی طرف کی طرف سے کی جانے والی مخلصانہ اور مصالحانہ کاوشوں کو سراہتے ہوئے وزیراعظم عمران خان اور وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا شکریہ ادا کیا۔

مخدوم شاہ محمود قریشی کا اس موقع پر کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے مابین گہرے تاریخی برادرانہ تعلقات ہیں۔ ہم افغانستان کی علاقائی سالمیت، خود مختاری کا احترام کرتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان شروع سے کہتے آ رہے ہیں کہ افغان مسئلے کا حل طاقت کے ذریعے ممکن نہیں ہے۔ آج دنیا اس نکتہ نظر کو سراہ رہی ہے۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان افغانوں کی سربراہی میں، افغانوں کو قابلِ قبول مذاکرات کے ذریعے افغان مسئلے کے پر امن اور دیرپا سیاسی حل کا حامی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان مشترکہ ذمہ داری کو نبھاتے ہوئے افغان امن عمل میں خلوص نیت سے مصالحانہ کردار ادا کرتا چلا آ رہا ہے۔ امریکہ طالبان امن معاہدہ اور بعد ازاں دوحہ میں بین الافغان مذاکرات کا انعقاد وہ تاریخی اور نادر مواقع ہیں جن سے افغانستان میں دیرپا قیام امن کیلئے امید کی شمع روشن ہوئی۔

اپنے تین روزہ دورہ پاکستان کے دوران ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ وزیراعظم عمران، صدر عارف علوی، چیٸرمین سینیٹ صادق سنجرانی، سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور دیگر اہم شخصیات سے ملاقاتیں کریں گے۔ توقع ہے کہ اس اعلیٰ سطح دورے سے افغان مفاہمتی عمل کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔

Post a Comment

اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں

 
Top