سعودی عرب کے ایک آرٹسٹ نے نامور شخصیات کے ایسے مجسمے تیار کیے ہیں جنہیں عربوں کے روایتی لباس میں ڈھالا گیا ہے۔ ان شخصیات کے مجمسوں کو سعودی عرب کے قومی لباس میں دکھایا گیا ہے۔ مجسمے روایتی قومی چغا اور سر پر شماگ پہنے ہوئے ہیں۔
ان مجسموں کی تیاری میں مضبوط مٹی، پلاسٹک اور تانبے جیسی دھاتوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔
سعودی آرٹسٹ حسین السقاف نے نجی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس کے تیار کردہ مختلف شخصیات کے مجسمے خوبصورت اور موثر مصنوعات شمار کیے جا رہے ہیں۔ تاہم انہیں مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مجسمہ سازی کے علاوہ کئی دوسرے فنون سعودی عرب کے نوجوانوں کی توجہ کا مرکز ہیں۔ نوجوان نسل آرٹ کے شعبے میں زیادہ دلچسپی لے رہی ہے۔
نجی نیوز کے مطابق مقامی سعودی شہری حسین السقاف نے سرامک، پلاسٹک یا پیتل استعمال کرکے مجسمے تیار کئے۔ السقاف کا کہنا ہے کہ مجسمہ سازی کا فن بڑا خوبصورت اور دلاویز ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سب سے پہلے میں نے جس شخصیت کا روایتی لباس میں مجسمہ تیار کیا وہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ہیں۔ ان کی بہ دولت 'بشت' تحریک کو خصوصی پذیرائی ملی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مجسمہ سازی سے قبل بھی آرٹ کے حوالے سے میرا شوق پہلے سے تھا اور میں کپڑوں پر نقش ونگار کے ذریعے اپنے فن کو بہتر کرتا رہا۔
سعودی فنکار کا کہنا ہے کہ ہمارے یہاں خداداد صلاحیت کے مالک ہنر مند نوجوان ہیں۔ سنگ تراشی، ڈیزائن، تجریدی آرٹ اور اسکیچز کے ہنر میں دسترس رکھتے ہیں۔
انہوںنے کہا کہ مجھے یہ اندازہ نہیں تھا کہ میرے فن اور شوق کو اتنی زیادہ پذیرائی حاصل ہوگی اور میں ملک کی نامور شخصیات کے ایسے مجسمے تیار کرسکوں گا۔ ان کا کہنا تھا کہ مجسمہ سازی کے فن کے حوالے سے معروف آرٹسٹوں طلال مداح، محمد عبدہ، ابو بکرسالم، موسیقی میں ام کلثوم جیسے فن کاروں سے متاثر ہوا۔



Post a Comment
اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں