باکو: نگورنو کاراباخ کے سرحدی علاقے ميں آرمينيا اور آذربائيجان کی افواج کے درمیان شديد جھڑپيں جاری ہيں۔ مسلم علاقے پر مسيحی عليحدگی پسندوں کا قبضہ اس علاقائی تنازع کا باعث بنا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق آرمینیا اور آذر بائیجان کے درمیان مسلح جھڑپيں متنازعہ علاقے نگورنو کاراباخ  ميں ہو رہی ہيں جو کہ آزاد جمہوری ملک ہے اور باضابطہ طور پر آذربائیجان کا علاقہ ہے تاہم آرمینیا اور دیگر عالمی قوتیں اسے تسلیم نہیں کرتیں۔

نگورنو کاراباخ نامی خطے کے صدر آرائیک ہاروتیونیان نے بتايا کہ صورت حال سے نمٹنے کے ليے تمام فوجی دستوں کو حرکت ميں لاتے ہوئے مارشل لاء نافذ کر ديا گيا ہے۔ فريقين کی جانب سے ایک دوسرے کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچانے کا دعویٰ کر رہی ہیں۔

میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ آذربائیجان اور آرمینیا کی جانب سے ایک دوسرے پر گولہ باری کے الزامات کی بارش کی جارہی ہے جبکہ آرمینیا نے الزام عائد کیا ہے کہ آذربائیجان کی فورسز نے متنازع علاقے میں آباد عام لوگوں کی بستیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ يريوان حکومت نے اس علاقے کے مرکزی شہر پر بھی گولہ باری کا الزام لگايا ہے۔ وزارت دفاع نے جوابی کارروائی ميں دو لڑاکا ہيلی کاپٹر اور تين ڈرون مار گرانے کا دعویٰ بھی کيا ہے۔

دوسری جانب آذربائيجان نے سرحدی علاقے ميں آپريشن شروع کرنے کی اطلاع تو دی ہے مگر شہری علاقوں پر بمباری کی خبروں کی ترديد کی ہے۔ آذربائيجان کی وزارت دفاع کے مطابق آرمينيا کی جنگی سرگرميوں کے رد عمل ميں اپنے شہريوں کی حفاظت کے ليے ٹينکوں، ميزائلوں، ڈرونز اور لڑاکا طياروں کو حرکت ميں لايا گيا ہے۔

روس نے تازہ جھڑپوں کے بعد دونوں ممالک پر فوری جنگ بندی کے ليے زور ديا ہے۔ روسی وزارت خارجہ نے ایک بيان ميں کہا کہ فريقين کشيدگی ميں کمی اور حالات میں بہتری کے ليے حملے بند اور بات چيت کے ذريعے مسائل حل کريں۔

خبر ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کے پڑوس میں واقع ملک ایران نے دونوں ممالک کے مابین تنازع کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان ناگورنو کرابخ ریجن کے معاملے پر 12 جولائی 2020 سے کشیدگی جاری ہے تاہم اس میں کشیدگی گزشتہ شب آئی جب دونوں جانب سے بھاری گولہ باری کی گئی۔

واضح رہے کہ سویت یونین سے آزادی کے بعد نگورنو کارا باخ کا علاقہ آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان متنازع بنا ہوا ہے، یہاں ایک ریفرنڈم میں عوام نے آذربائیجان کے حق میں فیصلہ دیا تھا تاہم آرمینیا نے اسے قبول نہیں کیا تھا جس کے بعد اس علاقے پر دونوں کے درمیان پہلے بھی جنگ ہوئی تھی۔

Post a Comment

اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں

 
Top