اسلام آباد: احتساب عدالت نے جعلی اکاؤنٹس اور میگا منی لانڈرنگ کیس میں پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور پر فرد جرم عائد کردی۔ تاہم دونوں نے صحت جرم سے انکار کردیا۔

احتساب عدالت اسلام آباد میں میگا منی لانڈرنگ کیس سے متعلق ریفرنس کی سماعت ہوئی۔ سابق صدر آصف زرداری اور رکن قومی اسمبلی فریال تالپور عدالت میں پیش ہوئے۔ اس موقع پر آصفہ بھٹو بھی ان کے ہمراہ تھیں۔

عدالت نے آصف زرداری اور فریال تالپور کو جرم کی کاپیاں فراہم کردیں۔ اس موقع پر وکیل فاروق ایچ نائیک عدالت میں موجود نہیں تھے جس پر معاون وکیل نے عدالت کو کہا کہ فاروق ایچ نائیک کا انتظار کیا جائے۔ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ملزم آصف زرداری خود عدالت میں موجود ہیں اس لیے ان پر فرد جرم عائد کی جاسکتی ہے۔ 

میگا منی لانڈرنگ میں حسین لوائی، طحہ رضا، محمد عمیر، مصطفی مجید، سلمان یونس، عمران خان، محمد اورنگزیب اور بلال شیخ سمیت مجموعی طور پر 14 ملزمان پر فرد جرم عائد کی گئی ہے۔

اس کےعلاوہ ٹھٹہ ریفرنس اور پارک لین ریفرنس میں بھی دونوں ملزمان پر فرد جرم عائد کی جانی تھی اورکیس کےدیگر ملزمان کو بھی ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہونے کے لیے نوٹس جاری کئے گئےتھے۔پارک لین ضمنی ریفرنس اور ٹھٹھہ واٹر سپلائی کیس میں ملزمان کی حاضری مکمل نہ ہونےپر فردِجرم 5 اکتوبر تک موخرکردی گئی ہے۔منی لانڈرنگ ریفرنس میں عدالت نے13 اکتوبرکونیب کوگواہان پیش کرنے کا حکم دیا ہے،ان میں وہ تین گواہان شامل ہیں جنھوں نے بینک اکاؤنٹس کھولےتھے۔

دوسری جانب آصف زرداری نے جعلی اکاؤنٹس کیسز کا ٹرائل اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے میگا منی لانڈرنگ اور پارک لین ریفرنسز میں بری کرنے کی استدعا کردی۔

آصف زرداری نے فوری ٹرائل روکنے کی بھی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ میگا منی لانڈرنگ اور پارک لین ریفرنسز میں بری کیا جائے، جعلی اکاؤنٹس کیسز نیب کا دائرہ اختیار نہیں ریفرنس خارج کیا جائے۔

Post a Comment

اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں

 
Top