اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ نواز شریف پاکستان کے خلاف سازش اور بہت خطرناک کھیل کھیل رہے ہیں اور اس کھیل میں بھارت ان کی پوری مدد کر رہا ہے۔  یہی گیم متحدہ بانی نے بھی کھیلی تھی۔

سماء ٹی وی کو انٹرویو کے دوران وزیراعظم کا کہنا تھا کہ نوازشریف بڑی خطرناک گیم کھیل رہا ہے یہی الطاف حسین نے کھیلی تھی، واضح کہتا ہوں بھارت اس کی پوری مدد کررہا ہے، حسین حقانی باہر بیٹھ کر پوری کمپین چلاتا ہے، نادان لبرلز خدا کے واسطے اپنی آنکھیں کھولیں۔

 انہوں نے کہا کہ مجھے جب کسی ادارے کی مدد ہو گی تو استعمال کروں گا۔ میری تمام پالیسیوں کے ساتھ فوج کھڑی ہے۔ نواز شریف کبھی بھی جمہوری نہیں رہے۔ فوج کا کام حکومت چلانا نہیں۔ سول حکومت منشورکے مطابق کام کررہی ہے ۔ موجودہ سول،ملٹری تعلقات پاکستان کی تاریخ کے بہترین ہیں۔ فوج مکمل طورپرجمہوری حکومت کے پیچھے کھڑی ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کو جمہوریت پسند نہیں، انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی)  اور  ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) ورلڈ کلاس ایجنسی ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مجھ سے پوچھے بغیر آرمی چیف کارگِل پر حملہ کرتے تومیں اسے فارغ کردیتا، نواز شریف امیر المومنین بننا چاہتے تھے۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ فوج کا کام حکومت چلانا نہیں، مجھے فوج سے کوئی مسئلہ نہیں، میں واحد آدمی ہوں جو فوج کی کسی نرسری میں نہیں پلا، پاک فوج نہ ہوتی تو پاکستان کے 3 ٹکڑے ہوچکے ہوتے، منتخب حکومت آئین کے مطابق کام کررہی ہے، آج پاک فوج میری پالیسی کے ساتھ کھڑی ہے، پائلٹ واپس کرنے اورکرتارپورراہداری کے فیصلوں پر فوج ساتھ کھڑی ہوئی، آرمی چیف نے گلگت بلتستان پر مجھ سے پوچھ کر اپوزیشن سے میٹنگ کی تھی۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ کیا ماضی میں کسی آرمی چیف نے غلطی کی توکیا سب کوبرا کہنا ہے؟۔ اگرجوڈیشیری میں کسی نے غلطی کی توکیا سب کوبرا کہنا ہے؟۔ ہم نے ماضی سے سیکھا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ نواز شریف بیان دے رہے ہیں جنرل ظہیر الاسلام نے کہا استعفیٰ دے دیں، آپ وزیراعظم تھے، کس کی جرأت ہے کہ وہ استعفیٰ مانگتا، آپ اسی وقت اسے ٹیک آن کرتے، مجھے ایسے پیغام دیا جاتا تو میں اس کا استعفیٰ مانگتا، کسی کی جرأت ہے جو مجھے آکر کہے کہ استعفیٰ دو۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’سب جانتے ہیں بھارت دہشتگردی کو پروان چڑھاتا ہے، بھارت گلگت بلتستان میں انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہاہے، گلگت بلتستان کے عوام اپنے حقوق چاہتے ہیں، نواز شریف ملک سے باہر بیٹھ کر فوج کے خالف مہم چلا رہے ہیں، بھارت پاکستان کو توڑنا چاہتاہے۔

نجی ٹی وی کو انٹرویو میں وزیر اعظم نے کہا کہ نواز شریف بے شرمی سے جھوٹ بول کر بیرون ملک گئے، انہوں نے اتنی بیماریاں گنوائیں کہ ایسے لگتا تھا کسی بھی وقت مرسکتے ہیں، ہمیں بتایا گیا تھا کہ نواز شریف مرنے والے ہیں، نوازشریف سے متعلق کابینہ کا 6 گھنٹے طویل اجلاس ہوا، کسی کو بھی نواز شریف پر یقین نہیں تھا، ڈاکٹر فیصل اور یاسمین راشد سے بار بار کہا کہ نواز شریف کوچیک کریں، ہمیں تو لگتا تھا نواز شریف کہ وہ جہاز کی سیڑھیاں بھی نہیں چڑھ سکیں گے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان کے لیے ایک فیصلہ کن وقت آگیا ہے، آج ملک کے سب سے بڑے ڈاکو اکٹھے ہوگئے ہیں، میں نے پہلی تقریر میں کہا تھا یہ سب ڈاکو اکٹھے ہوں گے، تقریر میں کہا تھا اپنے پیسے بچانے کے لیے یہ جمہوریت کے نام پر اکٹھے ہوں گے۔

عمران خان نے کہا کہ آج بھی کہتا ہوں میں کسی صورت انہیں این آر او نہیں دوں گا، آج یہ اداروں پر تنقید کرکے دباؤ ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں، انہوں نے اسی لیے مائنس ون کی بھی باتیں کیں، میں کسی دباؤ میں آکر انہیں این آر او نہیں دوں گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر اپوزیشن استعفے دے گی تو ہم الیکشن کرادیں گے۔

Post a Comment

اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں

 
Top