عرب خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق امیرکویت کی جولائی میں اپنے ملک میں سرجری کی گئی تھی جس کے بعد وہ مکمل علاج کے لیے امریکا روانہ ہوگئے تھے۔ ان کی صحت میں بہتری سے متعلق 14 ستمبر کو کویتی وزیر اعظم نے کابینہ کو آگاہ کیا تھا۔
غیرملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق امیرِ کویت امریکا میں زیر علاج تھے جہاں آج ان کا انتقال ہوا جس کی تصدیق حکام نے کردی ہے۔ شیخ صباح الاحمد نے 2006 میں تیل کی دولت سے مالا مال عرب ریاست کویت کے امیر کا منصب سنبھالا تھا جبکہ اس سے قبل 50 برس سے ریاست کے خارجہ امور و پالیسیاں دیکھ رہے تھے۔
شیخ صباح الاحمد الجابرالصباح کویت کے وزیر اعظم بھی رہے ہیں جب کہ وہ کویت کے 40 سال تک وزیر خارجہ بھی رہے۔ ان کے انتقال کے بعد ان کے 83 سالہ سوتیلے بھائی شیخ نواف الاحمد الصباح کے امیر کویت بننے کا امکان ہے تاہم باقاعدہ اعلان کچھ روز میں کیا جائے گا۔
دوسری طرف وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کویت کے حکمران شیخ صباح الاحمد الجابر الصباح کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
وفاقی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امیرکویت کے انتقال پرشاہی خاندان، کویتی حکومت اور عوام کے ساتھ اظہار تعزیت کرتے ہیں، امیر کویت ایک طویل عرصے تک کویتی وزیر خارجہ کے منصب پر بھی متمکن رہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کے دورحکمرانی میں پاکستان اور کویت کے مابین دوطرفہ تعلقات کو وسعت ملی۔ امیر کویت شیخ صباح الاحمد الجابر الصباح ایک صلح جو، امن پسند اور مشفق، حکمران کے طور پر جانے جاتے تھے۔ ہم ان کی مغفرت اور بلندی ء درجات کیلئے بارگاہِ ایزدی میں دعاگو ہیں۔
واضح رہے کہ آل صباح گزشتہ 260 برس سے خلیجی ریاست کویت پر حکمرانی کررہے ہیں۔کویت دنیا کے ان چھ ممالک میں شامل ہے جہاں بڑے پہمانے پر تیل کے ذخائر موجود ہیں۔

Post a Comment
اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں