ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) ڈاکٹر زاہد کا کہنا ہے کہ ضلع مردان میں کاروباری مرکز 'جج بازار' میں رکشے یا سائیکل پر نصب دھماکا خیز مواد پھٹنے سے 4 افراد جاں بحق اور 18 افراد زخمی ہو گئے۔
اس حوالے سے انسپکٹر جنرل خیبر پختونخوا پولیس ثناء اللہ عباسی نے بتایا کہ دھماکے میں 4 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔
پولیس نے بتایا کہ دھماکے سے 2 پولیس ہلکار سمیت 18 افراد زخمی ہوئے جن میں 3 کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔
ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) ڈاکٹر زاہد نے بتایا کہ دھماکے کے نزدیک موجود پولیس وین کو بھی نقصان پہنچا اور خدشہ ہے کہ دھماکے میں پولیس وین کو نشانہ بنایا گیا ہو۔
مقامی اطلاعات کے مطابق دھماکے میں جاں بحق ہونے والوں میں عارف اوراس کی دو کم سن بیٹیاں ایمان اور اریبہ شامل ہیں جبکہ ایک شخص کی شناخت ثاقب علی کے نام ہوئی۔
انہوں نے بتایا کہ ثاقب علی کو زخمی حالات میں ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاسکا اور دم توڑ دیا۔
دوسری جانب پولیس نے بتایا کہ دھماکے میں دو پولیس اہلکار امیتاز اکبر اور حماد بھی زخمی ہوئے۔
ہسپتال میں زیر علاج زخمی ہونے والے افراد کی شناخت جواد، روزی خان، عادل، بختیارعلی، عبدالرؤف، محمد آباد، یاسین، روزامین، بلال، عبدالودود، عبدالرحمان، واحد، کاشف، محسن، واحد او راشد سےہوئی۔
انہوں نے بتایا کہ زخمیوں کو شہر کے مختلف ہسپتالوں میں منتقل کردیا گیا جہاں 3 زخمیوں کی حالت نازک بتائی گئی ہے۔
خیال رہے کہ آج ہی کی تاریخ میں ضلع نوشہرہ کے علاقے اکبرپورہ میں دھماکے کے نتیجے میں 5 افراد جاں بحق جبکہ 2 زخمی ہوگئے تھے۔
ڈی پی او نجم الحسن نے بتایا تھا کہ دھماکا دریائے کابل کے ساتھ موجود مارکیٹ میں ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ دریائے کابل کے کنارے سے پتھروں سے کچھ اسکریپ کا سامان نکال رہے تھے، جس میں کچھ دھماکا خیز مواد بھی تھا جو اس وقت پھٹ گیا جب وہ اس کا وزن کر رہے تھے۔

Post a Comment
اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں