افغان میڈیا کے مطابق مشرقی صوبے ننگرہار ميں واقع ضلعی گورنر ہاؤس کے مرکزی دروازے سے داخل ہونے کی کوشش ناکام ہونے پر خودکش حملہ آور نے بارود سے بھری کار دیوار سے ٹکرادی جس کے نتیجے میں افغانستان کے انٹرنیشنل امپائر بسم اللہ جان شنواری سمیت 15 افراد ہلاک اور 30 زخمی ہوگئے۔ ہلاک ہونے والوں میں 8 شہری بھی شامل ہیں۔
صوبائی گورنر کے ترجمان عطا اللہ خوگيانی نے بتايا کہ کار بم دھماکے کے بعد حملہ آوروں نے اہم سرکاری عمارت ميں داخل ہونے کی کوشش کی جس پر سیکيورٹی فورسز کے اہلکاروں نے جوابی فائرنگ کی جس کے نتیجے میں کئی حملہ آور بھی مارے گئے۔
ضلعی گورنر ہاؤس پر خود کش حملے کی ذمہ داری فوری طور پر کسی گروپ نے قبول نہيں کی ہے تاہم مذکورہ علاقے ميں طالبان اور داعش دونوں تنظيميں ہی متحرک ہيں اور حال ہی میں ننگرہار میں کی جانے والی مسلح کارروائیوں کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔
دوسری جانب افغانستان کرکٹ بورڈ کے سابق میڈیا منیجر ابراہیم مہمند نے ٹوئٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان کے انٹرنیشنل امپائر بسم اللہ جان شنواری بھی دھماکے میں جاں بحق ہوگئے ہیں۔
Shocking news
Seven members of @ACBofficials elite Umpire #BismillahJanShinwari who officiated in many international matches has martyred in a road side bomb blast today in Shinwari district of Nangarhar.
The world T20 No 1 bowler Rashid Khan too belong to that district too. pic.twitter.com/kWCgBLtV8z
انہوں نے کہا کہ دھماکے میں امپائر کے خاندان کے 7 افراد بھی جاں بحق ہوئے ہیں، امپائر بسم اللہ جان شنواری نے متعدد انٹرنیشنل میچز میں امپائرنگ کے فرائض سرانجام دے چکے ہیں، تاہم اس حوالے سے اب تک افغان کرکٹ بورڈ یا انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے تصدیق یا تردید نہیں کی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کار بم حملے کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ نے قبول نہیں کی ہے تاہم افغان حکومت نے طالبان کو حملے کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔
خیال رہے کہ دھماکا ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب افغان حکومت اور طالبان جنگجوؤں کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
واضح رہے کہ دوحہ میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان پہلے براہ راست مذاکرات کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ہی ختم ہوگئے تاہم فریقین نے بات چیت کے عمل کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے جسے امریکا، پاکستان اور سعودی عرب سمیت دیگر ممالک نے خوش آئند قرار دیا ہے۔
Post a Comment
اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں