لکھنئو کی خصوصی عدالت میں 28 سال سے جاری مقدمے میں 1992 میں شہید ہونے والی تاريخی بابری مسجد کے مقدمہ کا فیصلہ سنا دیا گیا جس میں بی جے پی کے مرکزی رہنماؤں ایل کے ایڈوانی، مرلی منوہر جوشی اور اوما بھارتی سمیت دیگر ملزمان کو بری کردیا گیا۔
لکھنومیں قائم خصوصی عدالت کے جج سریندر کمار نے دو ہزار صفحات پر مشتمل فیصلہ سنایا۔
لکھنو کی خصوصی عدالت نے فیصلے میں کہا کہ بابری مسجد کو منصوبہ بندی کے تحت شہید نہیں کیا گیا جبکہ ملزمان کے خلاف کوئی حتمی ثبوت نہیں ملے۔
عدالتی فیصلے میں واقعے کی ویڈیو کو جعلی قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہےکہ تحقیقاتی ٹیم تصاویر کے نیگٹو پیش نہیں کرسکی جب کہ ملزمان کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت بھی موجود نہیں ہے۔
عدالت نے کہا کہ مقامی انٹیلی جنس کی رپورٹ میں اس طرح کے واقعات کے تسلسل کے بارے میں پہلے آگاہ کردیا گیا تھا کہ 6 دسمبر کو غیر معمولی حالات پیش آسکتے ہیں لیکن اسے نظر انداز کیا گیا۔
بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق بابری مسجد شہادت کیس میں آج سی بی آئی کی خصوصی عدالت میں تمام ملزمان کو بری کیے جانے پر جمعیت علما مہاراشٹر کے سیکریٹری گلزام اعظمی نے شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اس ملک میں اب اقلیتوں کو انصاف نہیں ملے گا۔
انہوں نے کہا کہ بابری مسجد اشہادت کیس کے تمام گواہ موجود ہیں لیکن عدالت میں آج یہ کہا گیا کہ کوئی ثبوت نہیں ملا، ہم سمجھتے ہیں آج بھارتی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے، اب اس ملک میں اقلیتوں کو انصاف نہیں ملے گا آج ہم یہ سمجھنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔
واضح رہے کہ بی جے پی کے سرکردہ رہنما لال کرشن ایڈوانی نے راشٹریہ سیوک سنگھ ک ساتھ مل کر 1992 میں بابری مسجد کے خلاف ہندو رائے عامہ کو بھڑکانے کے لیے رتھ یاترا کی تھی۔ اس یاترا کے بعد ایودھیا میں لاکھوں ہندو انتہا پسند رضاکار(کار سیکو) جمع ہوئے جنھوں ںے کہ 6 دسمبر 1992 کو بابری مسجد کی عمارت کو منہدم کردیا۔ اس واقعے کے بعد ایودھیا کی انتظامیہ نے دو مقدمات درج کیے تھے۔ جس میں سے ایک مقدمہ مسجدہ پر حملہ کرنے اور دوسرا اس کارروائی کی سازش کرنے والوں کے خلاف درج کیا گیا تاہم بعد ازاں سپریم کورٹ نے انہیں یکجا کردیا۔
مسجد کو منہدم کرنے کی سازش کے مقدمے میں بی جے پی کی مرکزی رہنما ایل کے ایڈوانی، منوہر جوشی ، اوما بھارتی، سادھوی رتھمبرا اور وشو ہندو پریشد کے کئی رہنماؤں کے ساتھ ایودھیا کے کئی ہندو مذہبی پیشوا ملزمان میں شامل تھے۔ تین دہائیوں تک جاری رہنے والے اس مقدمے میں ابتدائی طور پر 48 افراد کو نامزد کیا گیا تھا جن میں سے 16 کی موت ہوجانے کے بعد 32 ملزمان کے خلاف کارروائی جاری رہی اور آج اس کا فیصلہ سنایاگیا۔
بابری مسجد کی زمین کی ملکیت کے مقدمے میں گزشتہ سال بھارتی سپریم کورٹ اپنا فیصلہ سنا چکی ہے جس میں قرار دیا گیا تھا کہ جس زمین پر پانچ سو برس قبل مسجد تعمیر کی گئی وہ مندر کی ملکیت ہے۔ اس فیصلے کے بعد گزشتہ ماہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اس زمین پر مندر کی تعمیر کا افتتاح کرچکے ہیں۔

Post a Comment
اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں