لاہور: پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز نے کہا ہے کہ آنے والے دنوں میں فیصلہ کن جنگ ہوگی، ان کو بہت جلد دن میں تارے نظر آنے والے ہیں۔

اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز شریف نے وزیراعظم ڈکٹیٹر اور فاشسٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کابینہ میں مافیاز کے سرپرست ہیں۔

انہوں نے سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم جمہوریت کے نام پر دھبہ ہیں۔ گیارہ بار نوٹس لے چکے، مگر مہنگائی کم نہیں ہوئی۔ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) عقل سے عاری حکومت کا محاسبہ کرے گی۔

پنجاب اسمبلی میں حمزہ شہباز نے میڈیا سے گفتگو کی اور کہا کہ جلسے جلوس کرنا اپوزیشن کا حق ہے، حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہوچکی ہے، چند دنوں میں فیصلہ کن جنگ ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ نئے پاکستان کے تمام وعدے جھوٹے ثابت ہوئے۔ نئے پاکستان کا خواب چکنا چور ہو گیا۔ حکمرانوں کا یوم حساب آنے والا ہے۔ ہمیں جیلوں کا کوئی خوف نہیں ہے۔ حکومت اپوزیشن کی تحریک سے بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ ہم اب پیچھے نہیں ہٹیں گے، ان کا احتساب ہوگا۔

ن لیگی رہنما نے یہ بھی کہا کہ عوام آٹے کے حصول کیلئے رو رہے ہیں، وزیر خوراک قومی اسمبلی میں کہتے ہیں، پتا نہیں گندم کہاں چلی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان مہنگائی بڑھنے کے کئی نوٹسز لے چکے ہیں لیکن کچھ نہیں ہوا ہے، غریب آدمی کے بچے بھوک اور پیاس سے بلک رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبہ میں امن وامان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت متعدد آئی جیز تبدیل کر چکی لیکن زیادتی کیسز بڑھ رہے ہیں۔

حمزہ شہباز نے کہا کہ حکومت کو عوام کے مسائل حل کرنے کا موقع دیا لیکن

ادویات کی قیمتوں سمیت دیگر ضروریات زندگی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کر دیا گیا۔ عوام کو آٹا نہیں مل رہا۔ عمران خان مہنگائی پر 11 نوٹس لے چکے لیکن اس کے باوجود مہنگائی بڑھ رہی ہے

ان کا کہنا تھا کہ ڈھائی سال ہو گئےعوام کو ریلیف نہیں ملا۔ ہم نے ڈھائی سال میں 16،16 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ختم کر دی تھی۔ اب صورتحال یہ ہے کہ سردیاں آئی نہیں اور گیس کی لوڈشیڈنگ شروع ہو چکی ہے۔ ایک کھرب کا بی آر ٹی منصوبہ ابھی تک نہیں چل سکا۔

انہوں نے کہا کہ مجھے گرفتار کئے ہوئے ایک سال ہو گیا ہے، حکومت ایک پائی کی کرپشن ثابت نہیں کر سکی ہے۔

Post a Comment

اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں

 
Top