اسلام آباد: ٹیکنالوجی کے میدان میں  پاکستان نے وینٹی لیٹرز اور ڈرونز بنانے کے بعد  تاریخ میں پہلی بار بجلی سے چلنے والی پبلک الیکٹرک بائیک متعارف کروا کر ایک اور اہم سنگ میل طے کرلیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر آئی ٹی سید امین الحق نے ایزی بائیک کا افتتاح کیا جہاں پر پاکستان کی پہلی پبلک الیکٹرک بائیک متعارف کرائی گئی ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ زمانہ تیزی سے بدل رہا ہے اور ہر روز نئی ٹیکنالوجی جگہ بنائی جا رہی ہے۔

اس ضمن میں امین الحق کا کہنا ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ کے بڑھتے مسائل میں ایزی بائیک ایک خوشگوار اضافہ ہوگا کیونکہ ماحول دوست یہ بائیک خاص کر ملازمت پیشہ خواتین کیلئے بہترین سہولت بنے گی۔

انہوں نے کہا کہ ہم جس بحران سے گزر رہے ہیں ہمیں سرمایہ کاری کی بہت ضروری ہے، ایز بائیک سرمایہ کاری میں اہم کردار ادا کرے گا۔  اس سروس کے ذریعے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایزی بائیک کا پائلٹ پراجیکٹ ابتداء میں اسلام آباد میں شروع کیا جائے گا جس کے تحت راولپنڈی، اسلام آباد میں میٹرو اسٹیشنز کے اطراف میں یہ موجود ہوں گی۔

انہوں نے بتایا کہ ایزی بائیک کے چارجز 5 روپے فی منٹ ہوں گے اور ایک سال کے دوران تمام بڑے شہروں میں ایزی بائیک سروس فراہم کردی جائے گی۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ وزارت آئی ٹی عوامی خدمات اور سہولیات کے ہر منصوبے کی بھرپور سہولت کار ہے اور ہماری خواہش ہے کہ ڈیجیٹل پاکستان ویژن میں برقی سواریوں کا نمایاں حصہ ہوں۔

انہوں نے کہا کہ ٹک ٹاک پر پابندی لگا دی گئی ہے، ایسی پابندی کی خلاف ہوں جس سے ترقی کو عمل رک جائے۔

امین الحق نے کہا کہ ریاست کے خلاف بات نہیں ہونی چاہیے، ٹک ٹاک کی منیجمنٹ کے ساتھ مل کر بات چیت ہو رہی ہے، میکینزم طے ہونے پر ٹک ٹاک کھول دی جائے گی۔

Post a Comment

اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں

 
Top