رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ن کے رکن اسمبلی جلیل شرقپوری نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جس دن واقعہ پیش آیا کئی لوگوں نے رابطہ کیا، مجھ سے رابطہ کرنیوالوں نے اظہار نفرت کیا، انہوں نے کہا کہ بدتمیزی کرنے والے کے خلاف کل تک نواز شریف، رانا ثنا کے فیصلے کا انتظار کروں گا۔
انہوں نے بتایا کہ ن لیگ کا ٹکٹ نوازشریف کے کہنے پر لیا تھا، اختلافات اپنی جگہ پر تھے مگر اسمبلی کا ایک پلیٹ فارم ملتا ہے، پارٹی قیادت کا فیصلہ غیرمناسب ہے تو اظہار رائے کا حق ہے۔
رکن اسمبلی نے کہا کہ مسلم لیگ کے پلیٹ فارم پر دوبارہ ادب واحترام کے ساتھ آیا ہوں، جماعتوں میں رواج ہونا چاہیے ویژن کے خلاف آواز کو سننا چاہیے، خان صاحب کے ویژن کو سپورٹ کرتا تھا پھر بھی انکی ٹکٹ قبول کی،
جلیل شرقپوری نے کہا کہ بدتمیزی کرنیوالے کیخلاف کل تک فیصلہ نہ آیا توسمجھوں گا یہ خود اس مزاج کے ہیں، اداروں کے ساتھ ٹکراؤ کسی صورت مفاد میں نہیں، ہم بھی پاکستان کیلئے سیاسی پلیٹ فارم پر آتے ہیں، سب سے پہلے پاکستان ہے، کسی خاندان یا سیاسی پارٹی کی حیثیت بعد میں۔
پارٹی قیادت کے فیصلے پر اختلاف رائے رکھتا ہوں، بدتمیزی کرنیوالے شخص کو نوٹس تک نہیں دیا گیا، مجھے جب شوکاز دیا گیا تو اس کا جواب دیدیا تھا، میرے سر پر لوٹے رکھے گئے جبکہ یہ خود سب لوٹے ہیں۔

Post a Comment
اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں