طلال چوہدری کے بھائی کے مطابق طلال چوہدری پر کینال روڈ پر رات کے وقت چار افراد نے حملہ کیا اور تشدد کا نشانہ بنایا جس کے باعث وہ زخمی ہوگئے۔
بھائی نے بتایا کہ طلال چوہدری کے بائیں کندھے پر چوٹ آئی ہے اور وہ لاہور کے نجی اسپتال میں زیرعلاج ہیں جہاں سے دو روز بعد ڈسچارج کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق 23 ستمبر کو صبح 3 بجے عبداللہ گارڈن ٹائون فیصل آباد سے طلال چودھری نے پولیس کو مدد کےلئے 15 پر کال کی، چوکی نمبر 208 کی ٹیم کال پر فوری ایکشن کےلئے روانہ ہی ہوئی کہ ساتھ ہی عائشہ رجب بلوچ نے 15 پر کال کردی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ عائشہ بلوچ نے پولیس کو فون پر کہا کہ میرے گھر کے باہر کچھ مشکوک لوگ ہیں اور میں خطرہ محسوس کررہے ہوں، کچھ ہی دیر میں پولیس موقع پر پہنچ گئی۔
اس موقع پر ن لیگ کے دیگر کارکن اور رہنما عرفان نعمان بھی وہاں پہنچ چکے تھے، پولیس کچھ دیر میں پہنچی تو دیکھا سائیڈ پر طلال چودھری زخمی حالت میں پڑے تھے۔
زرائع کے مطابق طلال چودھری کو کسی نے مارا جس سے کندھا ٹوٹ گیا اور دونوں بازروں فیکچر ہوئے، پولیس طلال چودھری اور عائشہ رجب علی کے درمیان پہلے اچھے تعلقات بھی رہے، دونوں کے درمیان کچھ عرصہ قبل لڑائی ہوئی تو بڑھتی چلی گئی۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق ن لیگی ایم این اے طلال چودھری کو زخمی حالت میں لاہور کے نجی ہسپتال میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
واقعہ کے حوالے سے سابق لیگی ایم این اے کا کہنا تھا کہ میرا بازو فریکچر ہو گیا، مجھے انہوں نے تنظیم سازی کے لیے بلایا تھا، انہوں نے میرا موبائل فون پکڑ کر ویڈیو بنا لی۔
واقعے کے بعد خاتون ایم این اے کے گھر کے باہرسکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔

Post a Comment
اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں