سپریم کورٹ میں ملزم کی امریکا حوالگی سے متعلق کیس میں جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیے کہ پاکستان ایک خودمختار ریاست ہے، ایسے کیسے اپنا شہری کسی کو دے دیں۔ عدالت کا کہنا تھا کہ اگلی سماعت پر امریکا اور برطانیہ کیساتھ ملزمان کی حوالگی کے معاہدوں کی تفصیلات پیش کی جائیں۔
جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں جسٹس قاضی امین پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے ملزم طلحہ ہارون حوالگی کیس کی سماعت کی۔
درخواست کے وکیل طارق محمود نے مؤقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ نے تو حسین حقانی کو بھی واپس لانے کا حکم دیا تھا۔
درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے سنگل بینچ نے قرار دیا تھا کہ شواہد قابل قبول نہیں اور انٹرا کورٹ اپیل میں ہائی کورٹ نے جرم کا تعین انکوائری مجسٹریٹ پر چھوڑ دیا۔
انہوں نے کہا کہ خدشہ ہے مجسٹریٹ برائے نام کارروائی کرکے ملزم کو امریکا کے حوالے کر دے گا۔
سپریم کورٹ نے ملزم طلحہ ہارون کو تاحکم ثانی امریکا کے حوالے کرنے سے روکنے کا حکم دیتے ہوئے اٹارنی جنرل اور وزارت خارجہ کے متعلقہ حکام کو ریکارڈ سمیت طلب کر لیا۔
سپریم کورٹ نے ہدایت کی کہ عدالت کو آگاہ کیا جائے کہ کیا امریکا اور برطانیہ کے ساتھ ملزمان کی حوالگی کے معاہدے ہیں؟
عدالت نے دریافت کیا کہ اب تک امریکا اور برطانیہ سے کتنے ملزمان پاکستان لائے گئے اور کتنے حوالے کیے گئے؟ ساتھ ہی ان کا ریکارڈ پیش کرنے کا بھی دیا۔
جسٹس قاضی امین نے دریافت کیا کہ اگر پاکستان اور امریکا کے درمیان ملزمان کی حوالگی کا معاہدہ نہیں تو حوالگی کیسے ہو سکتی ہے؟
بعد ازاں عدالت نے اٹارنی جنرل اور وزارت خارجہ کے متعلقہ حکام کو ریکارڈ سمیت پیش ہونے کی ہدایت کرتے ہوئے متعلقہ کیس میں نامزد ملزم طلحہ ہارون کو تاحکم ثانی امریکا کے حوالے کرنے سے روک دیا، جب کہ کیس کی سماعت 2 ہفتے کیلئے ملتوی کردی گئی۔

Post a Comment
اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں