اسلام آباد: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی ) میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا ہے کہ چند ہفتے قبل آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ن لیگ کے سینئر رہنما اور سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے ملاقاتیں کیں۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام آف دی ریکارڈ مین میزبان کاشف عباسی سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما محمد زبیر نے آرمی چیف سے ہونے والی ملاقاتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ملاقات اورکھانےکے دوران سیاست پر بھی بات ہوتی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ملاقات طویل تھی جس میں نوازشریف اور مریم نواز کے معاملے پر بھی گفتگو ہوئی۔محمد زبیر نے بتایا کہ مریم نواز اور نوازشریف کے حوالے سے جب گفتگو کی تو آرمی چیف نے کہا قانونی معاملات عدالت کو دیکھنے چاہئیں۔ مسلم لیگ ن کے رہنما کا کہنا تھا کہ ’اس قسم کی ملاقاتیں خفیہ ہوتی ہیں، اس لیے میں نے کسی سے کوئی تذکرہ نہیں کیا‘۔

محمد زبیر کا کہنا تھا کہ’چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمرباجوہ سے40 سال پرانےتعلقات ہیں، اُن سے اسدعمر کے بیٹے کے ولیمے میں ملاقات ہوئی تو  آرمی چیف نے کہا اسلام آباد آئیں ملاقات کریں‘۔

اُن کا کہنا تھاکہ ’ملاقاتوں میں نوازشریف اور مریم نواز سے متعلق گفتگو ہوئی مگر کوئی ریلیف نہیں مانگا، اس طرح کی مٹینگز میں سیاسی بات چیت بھی ہوجاتی ہے‘۔ محمد زبیر نے یہ بھی بتایا کہ دوسری ملاقات میں ڈی جی آئی ایس آئی بھی موجود تھے۔

قبل ازیں پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے بتایا تھا کہ مسلم لیگ ن کے رہنما محمد زبیر نے آرمی چیف آف اسٹاف سے دو علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں، یہ مٹینگز سابق گورنر سندھ کی درخواست پر ہوئیں تھیں‘۔

میجر جنرل بابر افتخار نے مسلم لیگ نواز کے رہنماوں کی آرمی چیف سے ملاقاتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا  کہ دونوں ملاقاتیں سابق وزیر اعظم نواز شریف اور مریم نواز سے متعلق تھیں، پہلی ملاقات اگست کےآخری ہفتےدوسری 7ستمبرکو ہوئی تھی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ آرمی چیف نے محمد زبیر پر واضح کیا کہ قانونی مسائل عدالتوں اور سیاسی مسائل پارلیمنٹ میں حل ہوں گے، ملاقات میں ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی بھی موجود تھے۔

Post a Comment

اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں

 
Top