مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ نے ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران کہا ہے کہ زیر محاصرہ کشمیر کے وہ تمام لوگ جو بھارت کے ساتھ اپنے مستقبل پر یقین رکھتے تھے اب نئی دہلی کے بجائے چینی حکومت کے زیر انتظام آنے کو ترجیح دیں گے۔

واضح رہے کہ فاروق عبداللہ بھارت نواز موقف کے حامی رہے ہیں جس کی وجہ سے وہ مقبوضہ کشمیر بھارت کے مسلط کردہ وزیراعلیٰ بھی رہے مگر بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد وہ بھی بھارت مخالف ہوگئے ہیں۔

سابق بھارت نواز وزیراعلیٰ فاروق عبد اللہ کا کہنا ہے کہ کشمیری اب خود کو بھارت کا حصہ نہیں سمجھتے جس دن بھارتی فوج گلی کوچوں سے ہٹے گی لاکھوں کشمیری سڑکوں پر ہونگے۔

معروف بھارتی صحافی کرن تھاپر سے گفتگو کرتے ہوئے فاروق عبد اللہ نے کہا کہ کشمیر اب بھارت سے جان چھڑانے کے لیے چین کی حکومت بھی قبول کرنے کو تیار ہیں۔

انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ مودی سرکار لداخ کے بدھوں کو بھی ہندو بنانے پر کام کر رہی ہے

انہوں نے کہا کہ وہ تمام کشمیری جو پاکستان میں شمولیت کے خلاف تھے اب بھارتی اور چینی بارڈر پر کھڑے ہیں، جبکہ جموں و کشمیر کے بھارت کے ساتھ الحاق اور لداخ میں کی گئی تبدیلیوں کی وجہ سے چین پہلے ہی غصے میں ہے۔


بھارت نے گزشتہ سال آئین کے آرٹیکل 370 کو منسوخ کرکے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کردیا تھا، جو بھارت اور کشمیر کے درمیان مشروط معاہدے کے لیے اہم سمجھا جاتا تھا۔
پاکستان اس معاہدے کو مکمل طور پر متنازع قرار دیتا ہے۔
فاروق عبداللہ نے کہا کہ ہر کشمیری یہ یقین رکھتا ہے کہ نئے ڈومیسائل قوانین ہندو اکثریت کو خطے میں بڑھانے کے لیے ہیں، کشمیریوں اور باقی بھارت کے درمیان جو خلا پہلے سے تھا اب مزید بڑھتا جارہا ہے۔

Post a Comment

اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں

 
Top