وزیر اعظم عمران خان نے سابق وزیراعظم نواز  شریف کی اپوزیشن کی اے پی سی سے تقریر  کو نیوز چینلز پر نشر کرنے کی اجازت خود دی۔

گزشتہ دنوں یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ حکومت نواز شریف کے اے پی سی سے خطاب کو روکنے لیے قانونی طریقہ کار پر غور کر رہی ہے اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی روابط شہباز گل کا کہنا تھا کہ اگر ایک مجرم کی تقریر نشر ہوئی تو پیمرا قانون کے مطابق کارروائی کرے گا۔ تاہم وزیر اعظم عمران خان نے انھیں کسی بھی قسم کے ایکشن سے روک دیا۔

ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے کہا کہ نواز شریف کی تقریر نیوز چینل کو نشر کرنے دی جائے، وہ اپنی تقریر سے عوام میں خود بے نقاب ہوں گے۔

واضح رہے کہ نواز شریف کو بدعنوانی کے دو ریفرنسز میں احتساب عدالت نے مجرم قرار دے دیا تھا، جب کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی 15 ستمبر کو سابق وزیر اعظم کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے معاونین اور مشیروں کی جانب سے نواز شریف کی تقریر کو روکنے کے حوالے سے پیمرا کو خط لکھنے کی تجویز کو مسترد کر دیا۔

ذرائع کے مطابق مشیروں اور معاونین خصوصی نے وزیراعظم کو بتایا کہ ایسے فیصلے موجود ہیں جس میں مجرم کو بیانات دینے سے روکا گیا، وزیراعظم کو بتایا گیا کہ پیمرا کو ایسے عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کا کہنا چاہیے لیکن وزیراعظم نے مشیروں اور معاونین خصوصی کی اس تجویز سے اتفاق نہیں کیا۔

ایک ٹویٹ میں وزیر اعظم کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر نے لکھا کہ ابھی قوم نے قوانین کے خلاف سزا یافتہ اشتہاری مجرم کا لائیو بھاشن سنا، میاں صاحب بضد ہیں کہ انھیں صرف وہ جج قبول ہیں جو انھیں ثبوتوں کے باوجود بری کرے۔

اے پی سی اور نواز شریف کے خطاب پر ردعمل دیتے ہوئے وزیر اطلاعات پنجاب کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی تقریر کے بعد شہباز شریف کا چہرہ اترا ہوا تھا۔ نواز شریف اپنی تقریر سے عوام میں خود ایکسپوز ہوگئے، وہ جھوٹ بول رہے ہیں ان کو جھوٹ بولنے دیں۔ نواز شریف کی آج کی تقریر شہباز شریف کی سیاست پر خود کش حملہ تھا۔ جس کے بعد شہباز شریف نے بالکل 360 ڈگری کا زاویہ بدلتے ہوئے ایک مختلف تقریر کی، جس سے لگ رہا تھا کہ وہ فائر فائٹر کا کردار پیش کر رہے ہیں۔

فیاض الحسن چوہان نے مزید کہا کہ نواز شریف نے سوا گھنٹے تقریر کرکے بتا دیا کہ وہ بلکل ٹھیک ہیں اور ان کی صحت کو کوئی خطرہ نہیں۔ آج نواز شریف اور مریم نواز نے وہ ہی کیا جو گزشتہ 5 سالوں میں شہباز شریف نے ان کی سیاست کیساتھ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کس منہ سے فوج کو برا بھلا کہہ رہے ہیں؟ یہ وہ ہی ہیں جو جی ایچ کیو کے گیٹ نمبر 2 پر جا کر اپنی اپنی باریاں لیا کرتے تھے۔ یہ دوسروں کو نصیحت خود میاں فصیحت۔ یہ لوگ ملک کی معیشت بیڑہ غرق کرکے گئے ہیں۔ اچھا ہے یہ تقریر کرکے پوری دنیا کے سامنے بے نقاب ہوگئے ہیں۔

Post a Comment

اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں

 
Top