وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر، بھارت میں مسلمانوں پر مظالم، منی لانڈرنگ، اسرائیل اور فلسطین کا تنازع، ماحولیاتی تبدیلی، افغان امن عمل، گستاخہ خاکوں کی ترویج، کورونا وائرس کی صورتحال اور ایل او سی پر بھارتی اشتعال انگیزی سمیت اہم معاملات پر دنیا کی توجہ مبذول کرائی۔
وزیراعظم کا ریکارڈ شدہ خطاب نشر کرنے سے قبل جنرل اسمبلی میں موجود اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے ابتدائیہ کلمات ادا کیے۔
اپنے خطاب میں سب سے پہلی وزیر اعظم نے کہا کہ ہم نےنبی پاک ﷺکی ریاست مدینہ کے تصور پر نئے پاکستان کاماڈل تشکیل دی ہے،حکومت کی تمام پالیسیوں کامقصد شہریوں کے معیار زندگی میں اضافہ ہے، جبکہ ہم نے3سال میں 10ملین درخت لگانےکا منصوبہ بنایاہے۔Live Stream: Prime Minister of Pakistan @ImranKhanPTI's Virtual Address at 75th United Nations General Assembly Session (25.09.2020)#PMImranKhanAtUNGA https://t.co/5E5MiNCb0x
— Prime Minister's Office, Pakistan (@PakPMO) September 25, 2020
انہوں نے کہا کہ ملک میں ریاست مدینہ کی طرز کی حکومت قائم کرنے کیلئے ہمیں امن و استحکام کی ضرورت ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہماری خارجہ پالیسی میں علاقائی امن و سلامتی کو اولیت حاصل ہے اور ہمارا مؤقف ہے کہ تمام مسائل بات چیت کے ذریعے حل ہونے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ وبا انسانیت کو متحد کرنے کے لیے ایک موقع تھا لیکن بدقسمتی سے قوم پرستی، بین الاقوامی سطح پر کشیدگی میں اضافہ ہوا اور مذہبی سطح پر نفرت میں اضافہ ہوا اور اسلاموفوبیا بھی سر چڑھ کر بولنے لگا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارے مقدس مزارات کو نشانہ بنایا گیا ہمارے پیغبمر ﷺ کی گستاخی کی گئی، قرآن کو جلایا گیا اور یہ سب کچھ اظہار آزادی کے نام پر کیا گیا، چارلی ہیبڈو نے گستاخانہ خاکے دوبارہ شائع کرنے کی بات کی جو حالیہ مثال ہے۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ بھارت میں اسلاموفوبیا ریاستی پالیسی بن گئی ہے۔ بی جے پی انتہا پسند آر ایس ایس کے نظریے پر قائم ہے۔ گاندھی اور نہرو کا نظریہ آر ایس ایس کے نظریے سے بدل چکا ہے۔ اسی نظریے نے بابری مسجد کو شہید کیا۔ بھارت کو ہندو ریاست بنانے کے لیے مسلمانوں کا قتل عام کیا جا رہا ہے۔ 2002ء میں گجرات میں نریندر مودی کی سرپرستی میں مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا۔ 2007ء میں سمجھوتا ایکسپریس میں مسلمانوں کو زندہ جلا دیا گیا۔ آسام میں 20 لاکھ مسلمان اپنی شہریت سے محروم کر دیے گئے۔ مسلمانوں کا بائیکاٹ کرکے ان کا کاروبار تباہ کیا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی برادری ان جرائم کی تحقیقات کرے۔
وزیراعظم نے کہا کہ بھارت اپنے غیر قانونی اقدام سے توجہ ہٹانے کے لیے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر سیز فائر کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ فاشسٹ بھارتی حکومت کی جانب سے اشتعال انگیزی کی گئی تو پاکستان اپنے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔ کشمیر کو صاف طور پر نیوکیلئر فلیش پوائنٹ کہا جا رہا ہے۔ اگر بھارت کی فسطائی حکومت نے پاکستان کیخلاف جارحیت کی تو قوم بھرپور جواب دیگی۔ پاکستان ورکنگ باؤنڈری اور ایل او سی پر بھارتی جارحیت کے باوجود ضبط کا مظاہرہ کر رہا ہے۔
وزیر اعظم نے اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر پر آواز بلند کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل تک جنوبی ایشیا میں پائیدار امن قائم نہیں ہوسکتا، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالی کی جارہی ہے، سیکیورٹی کونسل نے گزشتہ سال 3 بار کشمیر کی صورتحال کا جائزہ لیا۔
عمران خان نے کہا کہ بھارتی حکومت کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اگربھارت کی فسطائی حکومت نے پاکستان کیخلاف کوئی جارحیت کی تو قوم بھرپور جواب دے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ 80 لاکھ کشمیریوں کو محصور کرکے اضافی فوج بلائی گئی، بین الااقوامی برادری لازمی طورپرکشمیرمیں سنگین خلاف ورزیوں کی تحقیق کرے۔،
وزیر اعظم پاکستان کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکومت، عوام حق خودرادیت کیلئے کشمیریوں کی جائز جدوجہد کی حمایت کرتی ہے، بھارت یو این قراردادوں، کشمیریوں کی خواہش کے مطابق تنازع کے حل پر متفق ہو اور فوجی محاصرے، انسانی حقوق کی دیگر پابندیوں کو فوری ختم کرے۔
انہوں نے کہا کہ بعض ممالک کی جانب سےعالمی معاہدوں کی دھجیاں بکھیری جارہی ہیں، حق خودارادیت جیسے بنیادی اصول کو کچلا جارہا ہے۔
ہماری خارجہ پالیسی کا مقصد ہمسایوں کیساتھ اچھے تعلقات،مسائل کابات چیت سے حل ہے، ہم اس موقع پر امن ، استحکام اور پر امن ہمسائیگی کے مقصد کو حاصل کر سکتے ہیں۔
وزیر اعظم پاکستان کا کہنا تھا کہ غریب ممالک پر قرضوں کا بوجھ ہے،ریلیف دینے کیلئے پہلے بھی کہا تھا، ترقی پذیر ممالک کو قرضوں کی ادائیگی میں مہلت سے ریلیف ملا، پھر کہہ رہے ہیں کہ قرضوں کی ادائیگی کیلئے دسمبر تک ریلیف کو مزید بڑھایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ امیر ممالک منی لانڈرنگ کرنے والوں کو تحفظ دیکر انسانی حقوق کی بات نہیں کرسکتے۔

Post a Comment
اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں