انقرہ: ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مسئلہ کشمیر ایک مرتبہ پھر اٹھاتے ہوئے کہاہے کہ مسئلہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ مسئلہ کشمیر اب بھی ایک اہم تنازع ہے۔

انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ  مسئلہ کشمیر جنوبی ایشیاء کے استحکام اور امن کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے آج تک حل نہیں کیا جاسکا ہے۔

جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد اٹھائے گئے اقدامات نے اس مسئلے کو مسئلہ پیچیدہ بنا دیا ہے۔

ہم اس مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے حق میں ہیں۔ اس مسئلے کو  اقوام متحدہ کی قراردادوں اور خاص طور پر کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل  کرنے کی ضرورت ہے۔

اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ دنیا بھر میں امن اور انسانیت کیلئے آواز اٹھاتے رہیں گے، اپنے موقف سے دستبردار نہیں ہوں گے، یونان کے مسئلہ پر مذاکرات کیلئے تیار ہیں۔

ترک صدر کا مزید کہنا تھا کہ شام میں ہزاروں بہن بھائیوں کو اپنے ملک میں بسایا، پی کے اور وائی پی جی سمیت دہشتگردوں کیخلاف جنگ جاری رکھیں گے، لیبیا، شام، یمن سمیت جنگ زدہ علاقوں میں امن کے لیے اقوام متحدہ کردار ادا کرے۔

ترک صدر نے کہا کہ کہ جو ممالک اپنے سفارتخانے مقبوضہ بیت المقدس میں منتقل کر رہے ہیں وہ فلسطین کے مسئلے کو پیچیدہ کر رہے ہیں، میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہاسرائیل سے تنازع کا حل فلسطینی ریاست کی 1967 کی سرحد کے قیام کی صورت میں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ بیشتر ممالک کو لاحق خطرات کے خاتمے کے منتظر ہیں، متعدد دہشت گرد تنظیموں سے مدمقابل ہیں جبکہ یواین قراردادوں پر عمل سے شام بحران کا حل ترجیح ہونی چاہئے۔

Post a Comment

اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں

 
Top