تفصیلات کے مطابق مانسہرہ میں دو روز قبل چار سالہ بچی کے ساتھ زیادتی کا واقعہ پیش آیا تھا، ملزم مذکورہ بچی کے ساتھ کھیتوں میں پکڑا گیا تھا جس پر اہل علاقہ نے اُسے تشدد کا نشانہ بنایا اور پھر پولیس کے حوالے کیا۔
ملزم کے رشتے داروں نے پولیس سے جھگڑا کرکے اُسے وہاں سے فرار کروایا جس کے بعد متاثرہ بچی کے اہل خانہ نے احتجاج کیا اور انتظامیہ کو گرفتاری کے لیے چوبیس گھنٹے کا وقت دیا تھا۔
بعد ازاں متاثرہ بچی کے اہل خانہ کی مدعیت میں ایف آئی آر درج ہوئی جس میں عبدالستار نامی شخص کو نامزد کیا تھا۔ پولیس نے مقدمہ درج ہونے کے بعد تفتیش کی تو سی سی ٹی وی فوٹیج سے ملزم کی شناخت بھی ہوگئی تھی۔
اسپیکر خیبرپختونخواہ اسمبلی مشتاق غنی نے مانسہرہ میں پیش آنے والے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی کے پی سے رپورٹ طلب کی اور ملزم کو جلد از جلد گرفتار کرنے کی ہدایت کی تھی۔
دوسری طف جنسی زیادتی کیس میں نامزد ملزم عبدالستار نے تھانہ سٹی پولیس میں گرفتاریکے وقت کہا کہ میں اس واقعہ میں ملوث نہیں ہو۔
جبکہ نامزد ملزم کے بھائیوں کا موقف ہے کہ ملزم اس وقت بینک میں تھا، جہاں کی فوٹیج موجود ہے، گھر واپسی پر کسی نے ہوٹل پر تصویر بنا کر اپلوڈ کردی، ڈی این اے ٹیسٹ کے بعد اصل حقائق سامنے آئیں گے۔
مانسہرہ پولیس ذرائع کے مطابق چار سالہ بچی کو مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنانے والے ملزم عبدالستار کو رشتے داروں نے پولیس کے حوالے کیا جسے کل عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ بچی کی میڈیکل رپورٹ میں زیادتی کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد اُس کا ڈی این اے نمونہ لے لیا اب ملزم عبدالستار کا ڈی این اے ٹیسٹ کرایا جائے گا۔

Post a Comment
اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں