اسلام آباد: اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس میں شریک سیاسی جماعتوں نے آئندہ ماہ سے حکومت مخالف تحریک چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ 

اسلام آباد میں حکومت کے خلاف حزب مخالف کی جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف، نائب صدر مریم نواز، جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، جے یو پی کے اویس نورانی اور دیگر جماعتوں کے قائدین و رہنماؤں نے شرکت کی۔  پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔

ن لیگ کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف کا کہنا ہے کہ اب بھی خاموشی اختیار کی تویہ خاموشی جرم بن جائے گی۔ ملک میں آج جمہوریت صرف نام کی ہے۔ موجودہ حکومت مکمل طور پر بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔

کانفرنس کی اہم بات سابق وزیر اعظم نواز شریف اور سابق صدر آصف علی زرداری بذریعہ ویڈیو لنک شریک ہیں۔

کانفرنس سے آصف علی زرداری، نواز شریف، شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری سمیت دیگر نے خطاب کیا۔

اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس میں حزب اختلاف کی جماعتوں کی طرف سے  نیا اتحاد قائم کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی ( پی پی پی ) کی میزبانی میں ہونے والے اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس ( اے پی سی ) میں اپوزیشن نے اتحاد کو پاکستان ڈیموکریٹک الائنس کا نام دے دیا ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اے پی سی کے مشترکہ اعلامیے میں وزیر اعظم سے فوری استعفے کا مطالبہ کیا جائے گا ، اپوزیشن اتحاد اکتوبر میں جلسے جلوس اورجنوری 2021 میں اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کر ے گا ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کی طرف سے ایک احتجاجی لانگ مارچ بھی اس تحریک کا حصہ ہوگا ، اپوزیشن کی جانب سے جنوری 2021 میں اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کیا جائے گا ۔

سابق وزیراعظم نواز شریف نے طویل عرصے بعد اپنی خاموشی کو توڑتے ہوئے اپوزیشن کی کثیر الجماعتی کانفرنس میں حکومت اور اداروں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہماری جدوجہد وزیراعظم عمران خان کے خلاف نہیں بلکہ 2018 انتخابات کے ذریعے انہیں اقتدار میں لانے والوں کے خلاف ہے۔


اس کثیرالجماعتی کانفرنس کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ تھی کیونکہ اس میں علاج کے غرص سے لندن میں موجود مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف کا بذریعہ ویڈیو لنک خطاب کیا تھا۔

کانفرنس سے اپنے خطاب میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے سب سے پہلے آصف زرداری سمیت تمام شرکا کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ ایک روز قبل میری بلاول بھٹو سے بات ہوئی اور انہوں نے جس پیار، محبت سے مجھ سے بات کی، میں اسے کبھی نہیں بھلا پاؤں گا.

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 'میں وطن سے دور ہوتے ہوئے بھی اچھی طرح جانتا ہوں کہ وطن عزیز کن حالات سے گزر رہا ہے اور عوام کن مشکلات کا شکار ہیں، یہ کانفرنس نہایت اہم موقع پر منعقد ہورہی ہے بلکہ میں تو اسے ایک فیصلہ کن موڑ سمجھتا ہوں کیونکہ پاکستان کی خوشحالی اور صحیح جمہوری ریاست بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ہر طرح کی مصلحت چھوڑ کر اپنی تاریخ پر نظر ڈالیں اور بے باک فیصلے کریں'۔


نواز شریف کے علاوہ سابق صدر اور پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری بھی بذریعہ ویڈیو لنک ابندائیہ خطاب کیا۔

سابق صدر آصف علی زرداری نے بذریعہ ویڈیو لنک اپنے خطاب میں سب سے پہلے سابق وزیراعظم نواز شریف کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے بلاول کی دعوت پر اے پی سی میں شرکت کی، ساتھ ہی انہوں نے سابق وزیراعظم کی صحت کے لیے بھی دعا کی۔

انہوں نے کہا کہ میری نظر میں یہ اے پی سی بہت پہلے ہونی چاہیے تھی، انہوں نے اگر مجھے جیلوں میں نہ بھیجا ہوتا تو شاید میں پہلے آجاتا، مولانا کا کام ہی یہی ہے کہ کسی کو آسرا دے کر کہنا کہ چل میں آرہا۔

آصف زرداری کا کہنا تھا کہ اے پی سی کے خلاف حکومت جو ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے وہی آپ کی کامیابی ہے، یہ کیا ہے کہ نواز شریف کو براہ راست نہیں دکھا سکتے لیکن جنرل (ر) پرویز مشرف کو دکھا سکتے ہیں، میرا انٹرویو پارلیمنٹ سے بند کیا جاسکتا ہے لیکن وہ آمر جو بھاگا ہوا ہے اس کا انٹرویو دکھانا ان کے لیے ناپاک نہیں ہے۔

دوران خطاب سابق صدر کا کہنا تھا کہ ان کے لیے ہم جمہوریت پر یقین رکھنے والے سب ناکام ہیں، ہمیں پیمرا کی ضرورت نہیں ہے، لوگوں کو پتا ہے وہ ہمیں سن رہے ہیں اور سنتے رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ جب سے ہم سیاست میں ہیں ہم نے کبھی اتنی پابندیاں نہیں دیکھیں، ایک چینل کے سی ای او کو جیل میں ڈالا ہوا ہے جبکہ ایک چینل کو لاہور سے بند کیا ہوا ہے، یہ سب حکومت کی کمزوریاں ہیں، آج کل کی میڈیا کو بند کرنا یا رکھنا تقریباً نامکمل ہے کیونکہ آج کل ہر کوئی انٹرنیٹ کا استعمال کرتا ہے۔

اس موقع پر مریم نواز کو قوم کی بیٹی کہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم سمجھ سکتے ہیں انہوں نے کتنی تکلیف سہی ہوگی کیونکہ میری بہن اور بیوی نے بھی یہ سب کچھ دیکھا تھا، تاہم ہم آپ کے ساتھ ہیں اور آپ کے مقصد کے لیے لڑتے رہیں گے۔

آصف زرداری کا کہنا تھا کہ یہ ہماری کوئی پہلی کثیر الجماعتی کانفرنس نہیں ہے، اس سے قبل بینظیر بھٹو نے سعودی عرب جا کر نواز شریف کے ساتھ چارٹر آف ڈیموکریسی کیا تھا جس سے ہم نے ایک ہم آہنگی بنائی تھی اور مشرف کو گھر بھیجا تھا جبکہ 18ویں ترمیم بھی پاس کی تھی۔

پیپلز پارٹی ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو زرداری نے اے پی سی کے مشترکہ اعلامیے کے لیے پارٹی قائدین سے مشاورت مکمل کر لی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کُل جماعتی کانفرنس میں وزیراعظم عمران خان اور اسپیکر اسد قیصر کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی تجویز پیش کی جائے گی۔ اس کے علاوہ ملک بھر میں جلسے جلوسوں کی تجویز بھی پیش کی جائےگی۔

وزیراعلی پنجاب کو بھی تحریک عدم اعتماد کے ذریعے گھر بھیجنے کی تجویز دی جائے گی، تجاویز پر فیصلہ اتفاق رائے سے کیا جائے گا۔

Post a Comment

اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں

 
Top