کراچی کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے 8 سال بعد سانحہ بلدیہ فیکٹری کا فیصلہ سنا دیا۔

عدالت نے بھتا نہ دینے پربلدیہ فیکٹری میں آگ لگا کر ڈھائی سو سے زائد افراد کو قتل کرنے کے اس مقدمے میں رحمان بھولا اور زبیر چریا کو 264 مرتبہ عمر قید اور 264 مرتبہ سزائے موت دینے کا حکم دیا ہے۔ جب کہ رہنما ایم کیو ایم رؤف صدیقی، ادیب خانم، علی حسن قادری اور عبدالستار کو عدم شواہد کی بنا پر بری کردیا۔

عدالت نے سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس میں دیگر 4 ملزمان علی محمد، ارشد محمود، فضل اور شاہ رُخ کو سہولت کاری کے الزام میں عمر قید کی سزا سنائی،

انسداد دہشت گردی کی عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد 2 ستمبر کو کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ جو 17 ستمبر کو سنایا جانا تھا تاہم عدالت نے فیصلہ سنائے بغیر سماعت 22 ستمبر تک موخر کردی تھی۔

سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس میں مارچ 2015 میں جے آئی ٹی تشکیل دی گئی اور 5مارچ 2016 کو پروگریس رپورٹ پیش کی گئی جب کہ فروری 2017 میں ایم کیو ایم رہنما رؤف صدیقی، رحمان بھولا، زبیر چریا اور دیگر پر فرد جرم عائد کی گئی تھی، کیس میں ملزمان کے خلاف 400 عینی شاہدین کے بیانات ریکارڈ کیے گئے۔

واضح رہے کہ 11ستمبر 2012 کو بلدیہ فیکٹری آتشزدگی کیس میں 260 افراد جل کر جاں بحق ہوگئے تھے جب کہ فیکٹری مالکان نے آتشزدگی کا ذمہ دار ایم کیو ایم کو قرار دیا تھا۔

Post a Comment

اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں

 
Top