اسلام آباد: چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کراچی میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری کے لیے پولیس پر دباؤ ڈالنےکے معاملے پر نوٹس لے لیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے حوالے سے بتایا ہے کہ جنرل قمر جاوید باوجوہ نے کراچی واقع کا نوٹس لیتے ہوئے کور کمانڈر کراچی سے واقعہ کی رپورٹ طلب کرلی ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق چیف آف آرمی اسٹاف نے ہدایت دی ہے کہ حالات کا جائزہ لے کر حقائق سامنے لائے جائیں۔ انہوں نے انکوائری رپورٹ جلد بھجوانے کی ہدایت کی ہے۔
واضح رہے کہ اب سے کچھ دیر قبل بلاول بھٹو نے پریس کانفرنس کے دوران آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، ڈی جی آئی ایس آئی سےکراچی واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔
بلاول نے سوال کیا تھا کہ کون تھے وہ دو لوگ جو آئی جی کو صبح 4 بجے گھر سے لیکر گئے تھے، سب افسران سوال کررہےہیں کون تھےجوآئی جی سندھ کےگھرپرگئے۔
ان کا کہنا تھا کہ قائداعظم کے مزار پر ایک نعرہ لگانے پر اتنا بڑا ایشو بنایا گیا، ایسی کیا ضرورت پڑگئی کہ صبح 4 بجے آئی جی سندھ کو گھر سے لے گئے، اگر پولیس پر دباؤ ڈالا جائے گا تو وہ اپنا کام کیسے کرے گی۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پولیس پر دباو ناقابل برداشت ہے، آئی جی سندھ کے ساتھ جو واقعہ پیش آیا ہے اس کی بھی تحقیقات ہونی چاہیے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے حالیہ واقعے کو ناقابل برداشت قرار دیتے ہوئے کہا کہ جیسے مسائل ہیں اس پر ایک فورس یا جماعت قابو نہیں پاسکتی کیونکہ پاکستان کی تاریخ میں آج تک ایسا بحران نہیں دیکھا۔
ان کا کہنا تھا کہ دیگر صوبوں میں پولیس پولیٹیکل ونگ کی طرح کام کررہی ہے لیکن ادارے کسی ایک جماعت کے نہیں اسی لیے ان کو غیر جانبدار ہوکر کام کرنا چاہیے۔
Post a Comment
اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں