عدالت نے صفدر کو ایک لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا۔ تاہم وقت ختم ہونے کے باعت عدالت نے کیپٹن صفدر کے وکلاء کو مچلکوں کی جگہ ایک لاکھ روپے نقد جمع کرانے کا حکم دے دیا۔ سماعت کے دوران عدالت نے کیپٹن صفدر کے وکلا کی جانب سے چیک اور پراپرٹی کاغذات لینے سے انکار کردیا۔ عدالت نے کہا کہ پیپرزکی انکوائری کیلئے وقت درکار ہوگا۔
کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ مقدمہ بدنیتی کی بنیاد پر دائر کیا ہے اس لیے فوری طور پر خارج کیا جائے۔ اس سے پہلے مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے دعویٰ کیا تھا کہ کہ عدالت نے مزار قائد کی بے حرمتی کیس میں گرفتار ان کے شوہر کیپٹن (ر) صفدر کی ضمانت منظور کرلی ہے۔
کیپٹن صفدر کے وکلا نے دلائل دیے کہ مقدمے میں اسلحے کے زور پر جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے کی دفعات شامل ہیں۔ مزار قائد کی سی سی ٹی وی اور وائرل وڈیو میں واضح ہے کہ انکے موکل کے پاس اسلحہ نہیں تھا۔ مقدمہ بدنیتی کی بنیاد پر دائر ہوا اسے خارج کیا جائے۔
دوران سماعت عدالت نے استفسار کیا ملزم کہاں ہےکیوں پیش نہیں کیاگیا جس پر وکلا نے بتایا کہ ہمارےموکل کو 8 بجے گرفتار کیا گیا لیکن ابھی تک پیش نہیں کیا، سیاسی مقدمہ بنایاگیا،پولیس جان بوجھ کرپیش نہیں کررہی۔
سماعت کے دوران مسلم لیگ ن اورپی ٹی آئی کے وکلا آپس میں الجھ گئے اور کمرہ عدالت میں جج کے سامنے ایک دوسرے کے اوپر چلاتے رہے، جس کے بعد عدالت نے وکلااور فریقین کوخاموش کرادیا اور کہا کسٹڈی آجائے تو پھردلائل سن لیں گے۔
پولیس کی جانب سے کیپٹن(ر)صفدرکوبکتربندمیں سٹی کورٹ پہنچایا گیا ، جس کے بعد کیپٹن(ر)صفدر کو جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی وزیرمیمن کے روبرو پیش کیا گیا۔
عدالت نے استفسار کیا مریم صفدرکوکیپٹن(ر)صفدر کی ضمانت کی پیشگی اطلاع کیسے ملی؟ کیپٹن (ر)صفدر کے وکلا نے مقدمے کے اخراج کی درخواست دائر کی ، درخواست ضابطہ فوجداری کی دفعہ 63 کے تحت دائر کی گئی۔
کیپٹن (ر) صفدر کی پیشی کے موقع پر سٹی کورٹ کے اطراف 400سے زائد اضافی اہلکار تعینات کئے گئے تھے۔
خیال رہے مریم نواز،کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف تھانہ بریگیڈ میں مقدمہ درج ہے، مقدمے میں مزارقائدکی بےحرمتی،املاک کو نقصان،دھمکیاں دینے کی دفعات شامل کی گئی ہے جبکہ مقدمے میں 200نامعلوم افراد بھی نامزدہیں۔

Post a Comment
اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں