کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں مسکن چورنگی کے قریب دھماکا 4 منزلہ رہائشی عمارت کی پہلی منزل پر ہوا۔ عمارت کے گراؤنڈ فلور پر نجی بینک اور 3 دکانیں بھی قائم ہیں۔ دھماکے کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ اس سے ناصرف عمارت کی 2 منزلیں مکمل طور پر تباہ ہوگئیں بلکہ پارکنگ میں کھڑی گاڑیاں بھی ملبے تلے دب گئیں۔
دھماکے کے 27 زخمیوں کو اسپتال پہنچایا گیا ہے جن میں سے 5 دم توڑ گئے ہیں جب کہ 7 کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔ جاں بحق ہونے والوں میں سے 2 کی شناخت ہوگئی ہے، وہ عمارت کے نیچے واقع نجی بینک کے سیکیورٹی گارڈز تھے۔
پولیس نے بلڈنگ میں دھماکے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ دھماکے سے بلڈنگ بری طرح متاثر ہوئی ہے اور اس کے دو فلور مکمل طور پر تباہ ہوگئے ہیں جب کہ دھماکے کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔
ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی کے مطابق دھماکے میں 5 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔
زخمی ہونے والوں میں بینک کا عملہ بھی شامل ہے جب کہ بینک کا گارڈ بھی دھماکے میں جاں بحق ہوا ہے۔
ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل عمر بخاری نے بھی دھماکے کی جگہ کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز اور آج ہونے والے دھماکے کے واقعات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں اور سازش کرنے والے عناصر کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ کراچی کے شہری خوف زدہ نہ ہوں۔ ہمیں مضبوط رہنا ہے۔ ہم دشمن کے عزائم کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔
جبکہ بم ڈسپوزل اسکواڈ کی ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دھماکا قدرتی گیس کا ہے، جائے وقوعہ سے کسی قسم کے بارودی مواد کے شواہد نہیں ملے، زخمیوں میں سے بھی بم دھماکے کے شواہد نہیں ملے۔
واضح رہے کہ کراچی کے علاقے کیماڑی میں گزشتہ روز بھی دھاکا ہواتھا جس کے نتیجے میں چار افراد زخمی ہوگئے تھے۔ پولیس کا کہنا تھا کہ بارودی مواد موٹر سائیکل میں نصب تھا۔



Post a Comment
اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں