امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ اور جو بائیڈن کے درمیان آخری صدارتی مباحثہ گزشتہ روز ہوا جس میں امریکی صدر نے بھارت کو غلیظ، گندہ اور بے ہودہ قرار دیا۔
3 نومبر کو صدارتی انتخابات سے قبل آج ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے ڈیموکریٹک حریف جو بائیڈن کے درمیان آخری صدارتی مباحثہ ہوا، جو گزشتہ مباحثے کے مقابلے میں خاصا منظم رہا۔
اس مباحثے کے دوران مختلف موضوعات پر بحث کی گئی جیسا کہ کرونا کی عالمگیر وبا، نسل پرستی، پولیس تشدد اور ماحولیات وغیرہ۔ اس پورے مباحثے میں بھارت کا نام بہ طور مثال ایک مرتبہ آیا اور وہ بھی نہایت منفی انداز میں۔ ماحولیاتی تبدیلی کا ذکر ہو رہا تھا جب امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ’انڈیا ایک گندا ملک ہے، اس کی ہوا غلیظ ہے۔‘
اس بیان کے بعد پاکستان کو تنہا کرنے کے خواب دیکھنے والے خود رسوا ہو گئے ہیں، اور یہ پاکستان کی جانب سے بھارت کا اصلی چہرہ دکھانے کے اثرات بھی کہے جا سکتے ہیں۔
ان ہی اثرات کا نتیجہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ بھی مان گئے کہ بھارت غلیظ اور بے ہودہ ملک ہے۔
خیال رہے کہ امریکہ میں تقریبا 40 لاکھ بھارتی شہری رہتے ہیں جن میں سے تقریبا 25 لاکھ کو ووٹ ڈالنے کا بھی حق حاصل ہے۔ بھارتی نژاد ووٹرز کسی بھی صدارتی امیدوار کیلئے اہم ہو سکتے ہیں۔
ٹرمپ نے بھارتی نژاد ووٹروں کو اپنی طرف آمادہ کرنے کے لیے پہلی بار ہندوؤں کے لیے ایک علیحدہ اتحادی گروپ تشکیل دیا ہے جب کہ سکھوں کے لیے بھی ایک الگ گروپ بنایا ہے۔
امریکی انتخابات کیلئے ہونے والے آخری مباحثے میں ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کیلئے جن الفاظ کا استعمال کیا اس بعد قوی امکان ہے کہ ان کا بھارتی ووٹ بینک متاثر ہوگا۔

Post a Comment
اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں