میڈرڈ: اسپین میں کورونا وائرس کی وجہ سے تناؤ، ذہنی دباؤ اور پریشانی کے شکار طبی عملے کے لیے ایک خصوصی تھراپی کا اہتمام کیا گیا ہے جس میں عملے کے ارکان کو کچھ وقت گدھوں کے ساتھ گزارنا ہوتا ہے اور اسے ’ڈونکی تھراپی‘ کا نام دیا گیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق عالمگیر وبا کورونا کے خلاف جنگ لڑنے والا ہراول دستہ یعنی طبے عملے کو شدید ذہنی دباؤ کا سامنا رہتا ہے جس سے نبرد آزما ہونے کے لیے ایک غیر سرکاری تنظیم ‘ال بریتو فلیز’ نے انوکھی تھراپی کا آغاز کیا ہے۔
سپین میں بڑی تعداد میں مریضوں کی ہسپتالوں میں آمد اور ہلاکتوں سے طبی عملہ شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
یاد رہے کہ سپین میں عالمی وبا سے 33 ہزار 500 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ 90 ہزار افراد متاثر ہوئے ہیں۔
ال بریتو فلیز کے نگراں 57 سالہ لوئس بیجارانو کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے خلاف طبی عملے کی روزانہ کی جدوجہد بہت زیادہ ذہنی دباؤ کا باعث بنتی ہے جس سے ان کی توانائی ختم ہو جاتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈونکی تھراپی کا بنیادی خیال جاپان کی کتاب سے لیا گیا ہے جس میں تجویز کیا گیا تھا کہ درختوں کے درمیان وقت گزارنے سے ذہنی تناؤ میں کمی لائی جا سکتی ہے۔
میڈرڈ ہسپتال میں کورونا وائرس کے مریضوں کے علاج کے لیے کئی ماہ خدمات انجام دینے والی 25 سالہ نرس مونیکا مورالیس بھی ڈونکی تھراپی کرنے والوں میں شامل ہیں۔
مونیکا کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے مریضوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے جس کی وجہ سے عملے کی پریشانی بڑھتی جا رہی ہے۔ ایسے میں طبی عملے کو ذہنی دباؤ سے نکالنے کے لیے ڈونکی تھراپی کا عمل انتہائی مددگار ہے۔
واضح رہے کہ سپین میں ہر 10 میں سے ایک طبی عملے کا فرد کورونا سے متاثر ہوا ہے۔ یہ سپین کی عمومی آبادی کے وبا سے متاثر ہونے کے مقابلے میں دگنی شرح ہے۔
اندلوسیا دونانا نیشنل پارک کے قریب ال بریتو فلیز کے گدھوں کے ساتھ وقت گزار کر آنے والے اکثر طبی عملے کے افراد نے اس تھراپی کی تعریف کی ہے جب کہ کئی نے ذہنی دباؤ، ڈپریشن اور انزائٹی کے لیے ایک بہتر عمل قرار دیا ہے۔
اس تھراپی کے دوران کوئی بھی شخص گدھوں کے ساتھ وقت گزارتا ہے اور جب کسی ایک گدھے سے اس کی دوستی ہو جاتی ہے تو وہ اسے لے کر جنگل میں جاتا ہے اور اس کے ساتھ کچھ وقت گزارتا ہے۔
جنگل سے واپسی پر وہ شخص اس گدھے کے لیے کھانا تیار کرتا ہے اور اسے کھلاتا ہے۔ لوگوں کو یہ آپشن بھی دیا جاتا ہے اگر وہ چاہیں تو گدھے کو نہلا بھی سکتے ہیں لیکن ایسا کرنا لازمی نہیں ہے۔
اس حوالے سے نفسیاتی امراض کی ماہر ماریہ جیسس کا کہنا ہے کہ گدھا ایسا جانور ہے جس سے انسان اپنا قریبی تعلق قائم کر لیتا ہے اور قدرتی ماحول میں اس کے ساتھ وقت گزارنا تھراپی کے فوائد کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ آپ اپنے احساسات کو کسی ایسے کے سامنے بیان کرنا چاہتے ہیں جو آپ کی شخصیت کو نہ پرکھ رہا ہو۔
انہوں نے کہا کہ تحقیق سے واضح ہوتا ہے کہ جانوروں کی مدد سے کی جانے والی تھراپی سے نفسیاتی طور پر واضح تبدیلیاں آتی ہیں۔

Post a Comment
اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں