صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے حزب اسلامی افغانستان کے سربراہ گلبدین حکمت یار کی وفد کے ہمراہ ملاقات ہوئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق صدر مملکت سے گلبدین حکمت یار کی وفد کے ہمراہ ملاقات ہوئی ہے جس میں پاکستان افغانستان کے مابین تعلقات کے حوالے سے بات چیت کی گئی ہے۔

ملاقات میں صدر ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ پاکستان ہمسایہ ملک میں جامع ، وسیع البنیاد اور جامع سیاسی تصفیے کے لئے افغان زیرقیادت اور افغان ملکیت میں امن عمل کی حمایت جاری رکھے گا۔

 صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان ایک جیسی تاریخ ، ثقافت اور مذہب کے حامل ہیں ، دونوں برادر ممالک باہمی مفاد کیلئے باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے،پاکستان مشکل وقت میں افغان قوم کے ساتھ کھڑا رہے گا اور افغانستان کی تعمیر نو اور ترقی میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان ایک جیسی تاریخ ، ثقافت اور مذہب کے حامل ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ دونوں برادر ممالک باہمی مفاد کیلئے باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے، پاکستان مشکل وقت میں افغان قوم کے ساتھ کھڑا رہے گا اور افغانستان کی تعمیر نو اور ترقی میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ 

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں قیامِ امن سے نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کو فائدہ ہو گا، پاکستان ایک جامع اور وسیع البنیاد افغان امن عمل کیلئے اپنے اصولی مؤقف پر قائم رہے گا ۔ انہوں نے کہا کہ امید ہے کہ امریکہ اور طالبان کے مابین امن معاہدے سے افغانستان میں امن و استحکام آئے گا، افغان امن عمل میں خلل ڈالنے والے عناصر سے متنبہ رہنا ہوگا ، افغان قیادت کو امن عمل کو پٹڑی سے اترنے سے بچانا اور اس تاریخی موقع سے فائدہ اٹھانا ہوگا۔


صدر مملکت نے کہا کہ بین الاقوامی برادری نے افغان امن عمل میں پاکستان کے کردار کو سراہا ہے۔ صدر مملکت نے افغان مہاجرین کو دی جانے والی امداد ، کووڈ 19 کے دوران راہداری اور دوطرفہ تجارت کے لئے سرحد کھولنے اور افغان شہریوں کے لئے نظر ثانی شدہ ویزا پالیسی کا ذکر کیا۔حزب اسلامی کے رہنما گلبدین حکمت یار نے افغانستان میں امن اور مفاہمت کے عمل کے فروغ کے لئے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل  وزیراعظم کی جانب سے افغانستان کی تعمیر نو اور معاشی ترقی سمیت افغان مہاجرین کی باعزت واپسی میں پاکستان کی مکمل حمایت کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تجارت، نقل و حمل اور رابطوں میں بے پناہ صلاحیتیں موجود ہیں ۔

ملاقات میں  وزیراعظم نے افغانستان کے اندر اور باہر سے بگاڑ پیدا کرنے والوں کے کردار سے خبردار کیا ہے کہ ایسے عناصر امن و استحکام اور افغان عوام کی ترقی اور خوشحالی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

اس دوران وزیراعظم نے مزید کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات تاریخی ہیں کیونکہ پاکستان افغانی عوام کو اپنا بھائی سمجھتا ہے۔ 

Post a Comment

اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں

 
Top