افغانستان کے صوبے تخار میں مدرسے پرفضائی حملہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں 12 بچے شہید گئے جب کہ 14 زخمی ہوئے ہیں۔

افغان میڈیا کے مطابق فضائی حملہ ضلع بہارک میں مدرسے پر گزشتہ روزکیا گیا جس کی تصدیق حکام کی جانب سے کردی گئی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق افغانستان کے صوبے تاخر میں مدرسے پر کئے گئے فضائی حملے میں 12 بچے شہید اور 14 سے زائد زخمی ہو گئے۔ علاقے میں طالبان اور افغان فورسز کےدرمیان جھڑپیں بھی ہوئیں جن میں 25 سے زائد فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔

مدرسے پر حملہ افغان فورسز نے کیا یا غیر ملکی افواج نے، حکام نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا۔ افغان نائب صدر امراللہ صالح کا کہنا تھا کہ مدرسے پر فضائی حملے میں مارے جانے والے بچے نہیں بلکہ جنگجو تھے۔

دوسری طرف غیرملکی میڈیا کے مطابق افغان صوبہ تخار میں طالبان کے حملے میں سیکیورٹی فورسز کا بھاری جانی نقصان ہوا۔ گورنر کے ترجمان جواد ہجری نے بتایا کہ جھڑپیں اب بھی جاری ہیں، اب تک 25 اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ طالبان نے علاقے کے گھروں میں پوزیشنیں سنبھال رکھی تھیں، جب ہماری فورسز دشمن کیخلاف آپریشن کرنے وہاں گئی تو حملہ کردیا گیا۔

صوبی تخار کے ڈائریکٹر صحت عبدالقیوم کا کہنا ہے کہ 35 سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں، جن میں صوبائی ڈپٹی پولیس چیف بھی شامل ہیں۔

طالبان نے براہ راست ذمہ دار قبول نہیں کی تاہم ان کا کہنا ہے کہ تخار میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے آپریشن کیخلاف ہمارے جنگجو دشمن کیخلاف برسرپیکار ہیں۔

افغانستان میں حالیہ جھڑپوں سے امن عمل متاثر ہونے کا شدید خدشہ ہے، پاکستان کی کوششوں سے افغان طالبان مذاکرات کی میز پر آئے تھے جس کی تصدیق پاکستان کے دورے پر آئے حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یار نے بھی کی۔ انہوں نے بھارت کو وارننگ دی کہ افغانستان میں ماضی کی غلطیاں نہ دہرائے، جنگ کسی کے مفاد میں نہیں۔

Post a Comment

اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں

 
Top