خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق آج صبح جلال آباد میں پاکستانی قونصل خانے کے باہر ویزا ٹوکن حاصل کرنے کےلیے تقریباً 3000 افغانی جمع تھے جن میں خواتین اور بزرگ بھی شامل تھے۔
بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق ہلاک ہونے والے 15 افراد میں سے 11 خواتین ہیں جب کہ زخمی ہونے والے افراد میں بزرگ بھی شامل ہیں۔
قونصل خانے کی کھڑکی کھلتے ہی ٹوکن حاصل کرنے کے خواہشمندوں کا یہ ہجوم بے قابو ہوگیا اور بھگدڑ مچ گئی جس کے نتیجے میں کم از کم 15 افراد پیروں تلے کچل کر مارے گئے۔
ترجمان صوبائی گورنر عطا اللہ خان نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ حادثے میں زخمی و جاں بحق ہونے والے پاکستان کا ویزہ حاصل کرنے کے لیے پاکستانی قونصل خانے کے باہر جمع تھے۔
افغان میڈیا کا بتانا ہے روزانہ کی بنیاد پر سیکڑوں افراد پاکستان کے ویزے کے حصول کے لیے پاکستانی قونصلیٹ کے باہر جمع ہوتے ہیں جن میں بعض افراد تو ایک رات قبل ہی قطار لگالیتے ہیں۔
ایک مقامی افغان عہدیدار نے رائٹرز کے نمائندے کو بتایا کہ مرنے والوں میں خواتین کے علاوہ بزرگ شہریوں کی تعداد زیادہ ہے۔
افغانستان میں پاکستان کے سفیر منصور خان نے ٹوئٹ کے حادثے پر افسوس کا اظہار کیا۔
Deeply saddened at the reports of casualties at a stadium in Jalalabad 5 km from Pakistani Consulate where visa applicants were being organized by Afghan provincial authorities. We sympathize with the families of victims.
— Mansoor Ahmad Khan (@ambmansoorkhan) October 21, 2020
ٹوئٹر پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ واقعہ پاکستانی قونصل خانے سے 5کلو میٹر دور جلال آباد کے اسٹیڈیم میں پیش آیا، ہم متاثرین کے اہل خانہ سے ہمدردی رکھتے ہیں۔
پاکستانی سفیر نے کہاکہ ہم افغان حکام کے ساتھ مل کر ویزہ کیلئے درخواست دینے والوں کو بہتر سہولتوں کی فراہمی میں مصروف عمل ہیں، پاکستان نئی پالیسی کے تحت افغان شہریوں کو ویزہ جاری کرنے کے عمل کو بہتر سے بہتر بنانے کیلئے پرعزم ہے۔
اس سے قبل 13 اکتوبر کو کابل میں پاکستانی سفارتحانے نے ایک پریس ریلیز جاری کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ ہم نے افغان شہریوں کے لیے پاکستانی ویزوں کے حصول کی سہولت کو بہتر بنانے کے لیے ہنگامی اقدامات اٹھائے ہیں۔
پریس ریلیز کے مطابق نئی ویزہ پالیسی کے تحت افغان شہریوں کو علاج معالجے، خاندانی امور ،کاروبار ، تعلیم اور دیگر مقاصد سے متعلق پاکستان کا دورہ کرنے کے لیےطویل مدتی ویزے جاری کیے جارہے ہیں۔
افغان میڈیا کا کہنا ہےکہ کورونا وائرس کی وجہ سے کئی ماہ بعد حال ہی میں ایک بار پھر ویزوں کا اجرا شروع کیا گیا ہے جس کے باعث درخواست گزاروں کا ہجوم قونصل خانے کے باہر جمع ہوتا ہے۔



Post a Comment
اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں