ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ملزم عبدالجبار عرف ظفر ٹینشن کو گلستان جوہر سے گرفتار کیا گیا، گرفتار ملزم بم تیار کرنے اورجدید ہتھیارچلانے کاماہر ہے ۔
ایف آئی اے کامزید کہنا ہے کہ ملزم کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ میں ملازمت کرتا تھا،عسکری تربیت کیلئے 4 مرتبہ بھارت جاچکا ہے،ملزم کراچی میں ”را“کے سلیپر سیل کیلئے کام کررہاتھا۔
ملزم کو تمام ہدایات بھارت سے محمود صدیقی دیتا تھا اور محمود صدیقی کی طرف سے بھیجی گئی حوالہ ہنڈی کی رقم وصول کرتا رہا تھا، بھیجی گئی رقم دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے لئے استعمال کی جاتی تھی۔
ملزم اجمل پہاڑی اور ارشد چھوٹا گروپس کے ساتھ کام کرتا رہا ہے جبکہ دہشتگردی کی کارروائیوں میں ملوث ہونے پر دو دفعہ جیل بھی جا چکا ہے۔
ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کا تعلق ایم کیو ایم لندن سے ہے، عبدالجبار عرف ظفر ٹینشن ایم کیو ایم حقیقی کے سربراہ اور کارکنان پرحملوں میں بھی ملوث ہے۔
ملزم ظفر فائربریگیڈ میں سرکاری ملازمت بھی کرتا تھا۔ ایف آئی اے کے مطابق ملزم ظفر کا تعلق ایم کیو ایم لندن سے تھا جب کہ بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ میں بھی ملوث رہا۔
ایف آئی اے نے بتایا کہ ملزم نے بھارت میں چودہ ماہ دہشت گردی کی تربیت لی۔
ذرائع کے مطابق را سلیپر سیل کو فنڈز فراہم کرنے والے منی ایکسچینج کمپنی کے دو ملازمین بھی گرفتار کیے گئے۔ حوالہ ہنڈی کے ذریعے ملک دشمن عناصر کو رقم فراہم کی جا رہی تھی، ملزمان کے دیگر ساتھیوں کی تفصیلات ملک کے تمام ایئرپورٹس پر فراہم کردی گئیں۔
ایف آئی اے کے مطابق گرفتار ملزمان کے قبضے سے لیپ ٹاپ اور موبائل فون بھی برآمد ہوئے۔

Post a Comment
اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں