عرب خبر رساں ادارے کے مطابق ایران نے امریکا کی جانب سے بغداد میں ایرانی سفیر کو بلیک لسٹ کیے جانے کے بعد رد عمل میں امریکی سفیر پر پابندی عائد کی ہے۔ ساتھ میں تہران نے امریکی سفیر پر 'دہشت گردی' کا الزام بھی عائد کیا۔
ایرانی وزارت خارجہ نے ٹوئٹر پر کہا کہ میتھیو ٹولر اور عراق میں تعینات دو دیگر امریکی سفارت کار ایران کی حکومت یا شہریوں کے مفادات کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں، مالی اعانت اور رہنمائی میں ملوث پائے گئے ہیں۔
ایران نے مزید الزام عائد کیا کہ امریکی سفارتکار ایران کے جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کی منصوبہ بندی میں ملوث ہیں جن میں میتھیو ٹیولیر کے دو نائب بھی شامل ہیں۔
US Amb. to Iraq, Matthew Tueller, has had a central role in coordinating terrorist acts in Iraq & beyond, in criminal assassination of Gen. Soleimani & in advancing sanx agst our ppl. Today, Iran designated him & two other officials involved.
— Saeed Khatibzadeh (@SKhatibzadeh) October 23, 2020
Anti-Iran moves won't go unanswered. pic.twitter.com/4BTc16S7TK
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا کہ عراق کے لیے امریکی سفیر میتھیو ٹیولیر کا جنرل قاسم سلیمانی کے قتل میں مرکزی کردار تھا اور وہ ایرانی شہریوں کے خلاف پابندیاں لگارہے ہیں۔
علاوہ ازیں تہران نے عراق میں امریکی سفارت کار کے دو ڈپٹی اسٹیو فگین اور روب والرپر بھی پابندی عائد کردی۔
واضح رہے یہ افراد شمالی عراق کے کرد علاقے کے دارالحکومت ایربل میں امریکی قونصل خانے میں تعینات ہیں۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران مخالف اقدامات کے بھرپور جواب دیے جائیں گے۔
عرب میڈیا کے مطابق امریکا نے گزشتہ دنوں امریکی انتخابات میں مداخلت کا الزام عائد کرتے ہوئے ایران کے پانچ اداروں پر پابندی عائد کی تھی، تاہم تہران نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔
جب کہ بغداد میں ایرانی سفیر کو جنرل قاسم سلیمانی کا قریبی ساتھی قرار دیتے ہوئے بلیک لسٹ کیا تھا۔

Post a Comment
اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں