امریکا کی جانب سے بغداد میں تہران کے سفارتی مشن پر پابندی کے جواب میں ایران نے عراق میں امریکی سفیر پر پابندیاں عائد کردی۔

عرب خبر رساں ادارے کے مطابق ایران نے امریکا کی جانب سے بغداد میں ایرانی سفیر کو بلیک لسٹ کیے جانے کے بعد رد عمل میں امریکی سفیر پر پابندی عائد کی ہے۔ ساتھ میں تہران نے امریکی سفیر پر 'دہشت گردی' کا الزام بھی عائد کیا۔

ایرانی وزارت خارجہ نے ٹوئٹر پر کہا کہ میتھیو ٹولر اور عراق میں تعینات دو دیگر امریکی سفارت کار ایران کی حکومت یا شہریوں کے مفادات کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں، مالی اعانت اور رہنمائی میں ملوث پائے گئے ہیں۔

ایران نے مزید الزام عائد کیا کہ امریکی سفارتکار ایران کے جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کی منصوبہ بندی میں ملوث ہیں جن میں میتھیو ٹیولیر کے دو نائب بھی شامل ہیں۔

 ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا کہ عراق کے لیے امریکی سفیر میتھیو ٹیولیر کا جنرل قاسم سلیمانی کے قتل میں مرکزی کردار تھا اور وہ ایرانی شہریوں کے خلاف پابندیاں لگارہے ہیں۔

علاوہ ازیں تہران نے عراق میں امریکی سفارت کار کے دو ڈپٹی اسٹیو فگین اور روب والرپر بھی پابندی عائد کردی۔

واضح رہے یہ افراد شمالی عراق کے کرد علاقے کے دارالحکومت ایربل میں امریکی قونصل خانے میں تعینات ہیں۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران مخالف اقدامات کے بھرپور جواب دیے جائیں گے۔

عرب میڈیا کے مطابق امریکا نے گزشتہ دنوں امریکی انتخابات میں مداخلت کا الزام عائد کرتے ہوئے ایران کے پانچ اداروں پر پابندی عائد کی تھی، تاہم تہران نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔

جب کہ بغداد میں ایرانی سفیر کو جنرل قاسم سلیمانی کا قریبی ساتھی قرار دیتے ہوئے بلیک لسٹ کیا تھا۔

Post a Comment

اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں

 
Top