اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گیترس نے بیروت کی بندرگاہ پر دھماکےکی وجوہات کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کا غصہ جائز ہے ان کی آواز سنی جانی چاہیے۔

انتونیوگوتریس کا کہنا تھا کہ لبنانی عوام کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اصلاحات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ لبنان کے ساتھ کھڑا ہو کر ہرممکن مدد فراہم کرے گا۔ یہ یکجہتی کا لمحہ ہے اور وقت آ گیا ہے حالات کو بہتربنائیں۔ یو این سیکریٹری جنرل نے کہا کہ وہ لبنان کےعوام کے لیے بین الاقوامی تعاون کا مطالبہ کرتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی آن لائن بریفنگ میں 50 سے زائد ممالک نے شرکت کی۔
عرب نیوز کے مطابق سیکرٹری جنرل کا یہ مطالبہ بیروت کے عوام کے سڑکوں پر نکل کر مظاہروں کے بعد سامنے آیا ہے۔ مظاہرین ان دھماکوں کو حکومتی بدعنوانی اور نااہلی قرار دے رہے ہیں جس میں ڈیڑھ سو سے زائد افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے۔

اقوام متحدہ میں لبنان کی سفیر امل مدلعلی نے بیروت دھماکے کو “15 سیکنڈ میں 15 سال کی جنگ سے تشبیہ دی ہے ، جو اب تک کے تاریک ترین 15 سیکنڈ ہیں۔”

لبنان  کی موجودہ صورتحال کے بارے میں اقوام متحدہ کی آن لائن بریفنگ کے دوران ایک تقریر میں لبنان کے سفیر کامزید کہنا تھا کہ انصاف کے مستحق لوگ بجا طور پر  شفاف تحقیق کا  مطالبہ کر رہے ہیں۔”

واضح رہے کہ لبنان کے دارالحکومت بیروت میں ہونے والے دھماکوں کے بعد ملک بھر میں شدید احتجاج جاری ہے، گزشتہ روز لبنانی وزیراعظم حسن دیاب نے وزرا سمیت استعفے صدر میشال عون کو پیش کر دیئے تھے۔

گزشتہ منگل بیروت کی بندرگاہ پر تباہ کن دھماکوں سے دارالحکومت کا بیشتر حصہ تباہ ہو گیا ہے۔ دھماکوں کے نتیجے میں 220 سے زائد افراد ہلاک ہوئے جبکہ چھ ہزار کے قریب زخمی ہیں۔ ملک کو پندرہ ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہو چکا ہے۔


Post a Comment

اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں

 
Top