ایرانی صدر حسن روحانی نے متحدہ عرب امارات کےاسرائیل سےمعاہدے کوبہت بڑی غلطی اورفلسطینی کازسےغداری قراردے دیا ہے۔

خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ اسرائیل کو خطے میں قدم جمانے کا موقع نہیں دیا جائے۔

متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے حالیہ معاہدے پر اپنے رد عمل میں ایرانی صدر نے کہا ہے کہ امارتی حکمران سمجھتے ہیں کہ اسرائیل سے تعلقات سے ان کی سیکیورٹی اور معیشت میں بہتری آئے گی اور اماراتی حکام کا یہ سمجھنا بالکل غلط ہے۔

ایرانی صدر نے  دعوی کیا ہے کہ معاہدہ امریکی صدر ٹرمپ کو ایک بار پھر صدارتی انتخاب جتوانے کے لیے کروایا گیا ہے لیکن پھر بھی امید کرتے ہیں کہ متحدہ عرب امارات کو اپنی غلطی کا احساس ہوگا اور وہ اسے ٹھیک کر کے اپنا راستہ بدلیں گے۔

واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان باہمی تعلقات قائم کرنے کیلئے امن معاہدہ طے پایا ہے جس کے تحت اسرائیل مزید فلسطینی علاقے ضم نہیں کرے گا اور دو طرفہ تعلقات کے لیے دونوں ممالک مل کر روڈ میپ بنائیں گے۔

معاہدے کے مطابق امریکا اور متحدہ عرب امارات، اسرائیل سے دیگر مسلم ممالک سے بھی تعلقات قائم کرنے کے لیے مل کر کام کریں گے، اسرائیل سے امن کرنے والے ممالک کے مسلمان مقبوضہ بیت المقدس آ کر مسجد اقصیٰ میں نماز پڑھ سکیں گے۔

امارات اسرائیل امن معاہدے کے بعد فلسطین نے ابوظبی سے احتجاجاً اپنا سفیر واپس بلا لیا ہے۔

محمود عباس نے یو اے ای سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس فیصلے کو واپس لے اور دیگر عرب ممالک فلسطینیوں کے حقوق کو پامال کرتے ہوئے امارات کے نقش قدم پر مت چلیں۔


Post a Comment

اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں

 
Top