ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور جماعت الاحرار کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کو ہم استعمال کر رہے تھے، اور وہ اس دوران فرار ہونے میں کامیاب ہوا۔ احسان اللہ احسان کے آڈیو ٹیپ میں دعوے سراسر بے بنیاد ہیں، احسان اللہ احسان کی انفارمیشن سے ہمیں بہت فائدہ ہوا، 20 سال کے دوران جو جنگ لڑی، دشمن کے عزائم کو ناکام بنا دیا۔
راولپنڈی میں پریس بریفنگ کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر نے احسان اللہ احسان کی مبینہ آڈیو ٹیپ میں لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ 'مبینہ آڈیو ٹیپ میں لگائے گئے الزامات کا حقائق سے کوئی تعلق نہیں، وہ مکمل طور پر بے بنیاد ہیں'۔
میجر جنرل بابر افتخار نے بتایا کہ احسان اللہ احسان کو جتنا عرصہ پاکستان میں رکھا گیا اس دوران اس سے اہم معلومات حاصل کیں اور اس سے فائدہ ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ 'احسان اللہ احسان کے فرار ہونے کے ذمہ داران کے خلاف تادیبی کارروائی کی جارہی ہے'۔
خیال رہے کہ 17 اپریل 2017 کو پاک فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان نے خود کو سیکیورٹی فورسز کے حوالے کردیا۔
علاوہ ازیں رواں برس فروری کے آغاز میں ایسی خبریں سامنے آئی تھیں کہ احسان اللہ احسان مبینہ طور پر سیکیورٹی فورسز کی حراست سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا تھا۔
بعدازاں 17 فروری کو وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے احسان اللہ احسان کے فرار سے متعلق میڈیا میں چلنے والی خبروں کی تصدیق کی تھی۔
سعودی عرب بارے پوچھے گئے ایک اہم سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان پاک فوج نے کہا کہ میں صرف اتنا کہوں گا کہ ہمیں برادر ملک کے ساتھ تعلق پر فخر ہے، کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے۔ اس پر سوال اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ برادر اسلامی ملک کیساتھ ہمارے بہترین تعلقات ہیں اور رہیں گے۔ آرمی چیف طے شدہ دورے پر سعودی عرب جا رہے ہیں۔
چینی صدر کے دورہ پاکستان کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ اس بارے میں بہتر وزارت خارجہ ہی بتا سکتا ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) بہت بڑا پراجیکٹ ہے، اس کی سیکیورٹی کو مزید بڑھا دیا گیا ہے۔ منصوبے پر خطرے کا بہتر طریقے سے ادراک ہے۔ اس کی سیکیورٹی پر کسی قسم کا کمپرومائز نہیں ہوگا۔
افغانستان کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ افغان امن عمل کے آگے بڑھنے کے ساتھ افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے لیے بھی پرامید ہیں۔ 2600 کلومیٹر طویل پاک افغان سرحد پر 1700 کلومیٹر پر خاردار تار لگا دی گئی ہے۔ شمالی وزیرستان میں 11 ہزار فٹ بلندی پر بھی سرحد پر باڑ لگائی جا رہی ہے جبکہ ایک ہزار سرحدی پوسٹیں بنائی جا رہی ہیں۔
انہوں نےبھارتی جاسوس کلبھوشن کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کلبھوشن کے ہاتھ معصوم پاکستانیوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں، کلبھوشن بھارتی ایجنٹ تھا جو پاکستان میں خونریزی چاہتا تھا، کلبھوشن سے متعلق ہم عالمی قوانین کی پاسداری کررہے ہیں۔

Post a Comment
اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں