اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کا وکیل مقرر کرنے کیلیے بھارت کو ایک اور موقع دینے کا حکم دیا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ کی سربراہی میں لارجر بینچ نے حکومتی درخواست کی سماعت کی۔ سینئر وکیل حامد خان بطور عدالتی معاون عدالت میں پیش ہوئے۔ وزارت قانون نے استدعا کی کہ عدالت کلبھوشن یادھو کے لیے قانونی نمائندہ مقرر کرے۔
عدالت نے حکم دیا کہ بھارت کو کلبھوشن یادیو کا وکیل کرنے کے لیے 6 اکتوبر تک مہلت دی جائے اور عدالتی حکم نامہ بھارتی حکومت کو ارسال کیا جائے۔
اس موقع پر اٹارنی جنرل خالد جاوید خان ،ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق کھوکھر، ڈپٹی اٹارنی جنرل سید طیب شاہ عدالت میں پیش ہوئے، سینئر وکیل حامد خان بطور عدالتی معاون عدالت میں پیش ہوئے۔
چیف جسٹس اسلام آباد اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ کیا ہمارے گزشتہ احکامات پر عمل درآمد ہو گیا ہے؟
اٹارنی جنرل خالد جاوید نے بتایا کہ 6 اگست 2020 کو کلبھوشن کو اس متعلق آگاہ کیا گیا تھا لیکن حکومت کو بھارتی وزارت خارجہ کی طرف سے جواب موصول نہیں ہوا۔
اٹارنی جنرل نے بتایا کہ بھارت نے پاکستان میں کاغذات دیکھنے یا حصول کے لیے ایک وکیل شاہ نواز نون مقرر کیا، لیکن اس کے پاس بھارت کا کوئی اجازت نامہ یا وکالت نامہ نہیں تھا۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ بھارت بین الاقوامی عدالت کے فیصلے پر عملدرآمد سے بھاگ رہا ہے اور ایک ماہ بعد بھی جواب نہیں دیا، میری نظر میں دو ممکنہ صورتیں ہو سکتی ہیں، عدالت کلبھوشن کے لیے وکیل مقرر کرے یا بھارتی جواب کا انتظار کیا جائے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اگربھارت یا کلبھوشن سہولت سے فائدہ ہی نہیں اٹھانا چاہتے تو پھر نظرثانی پٹیشن کی حیثیت کیا ہوگی ؟ نظرثانی کا معاملہ موثر ہونا چاہئے، کیا یہ مناسب نہیں ہو گا کہ فیئر ٹرائل کے اصولوں کے تحت بھارت کو دوبارہ پیشکش کی جائے۔
عدالت نے بھارت کو 6 اکتوبر تک مہلت دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔

Post a Comment
اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں