اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو عدالت کے سامنے سرنڈر کرنے کے لیے 9 دن کی مہلت دی ہے۔ جس کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا۔

عدالت نے تحریری حکم نامے میں کہا کہ العزیزیہ ریفرنس میں نوازشریف کی ضمانت غیر مؤثر ہو چکی، نواز شریف نے بیرون ملک جانے سے آگاہ نہیں کیا، نواز شریف 10 ستمبر تک عدالت کے سامنے سرینڈر کریں۔ 4 صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ 2 رکنی بینچ نے جاری کیا۔

جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل اسلام آباد ہائی کے 2 رکنی بینچ  نے ایون فیلڈ، فلیگ شپ اور العزیزیہ ریفرنسز پر احتساب عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف نواز شریف، مریم نواز، کیپٹن ریٹائرڈ صفدر اور نیب کی نظر ثانی درخواستوں پر سماعت کی، اس موقع پر وکیل نواز شریف خواجہ حارث، رہنما (ن) لیگ مریم نواز، کیپٹن (ر) صفدر عدالت میں پیش ہوئے جب کہ سینیٹر پرویز رشید سمیت دیگر پارٹی رہنما بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔

سماعت کے دوران عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو عدالت کے سامنے سرنڈر کرنے کا حکم دیتے ہوئے وکیل خواجہ حارث سے کہا کہ آپ کو ایک موقع دے رہے ہیں کہ آئندہ سماعت سے قبل سرنڈر کریں۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ نوازشریف ہر صورت میں عدالت کے سامنے پیش ہوں جب کہ اگر آپ کو ائیرپورٹ پر کوئی گرفتاری کا خدشہ ہے تو بتا دیں۔

عدالت نے کہا کہ نواز شریف کی حاضری سے استثنی کی درخواست پر مناسب حکم جاری کریں گے، ہم اپنا تحریری حکمنامہ جاری کریں گے جس میں بتائیں گے کب سرنڈر کرنا ہے جب کہ وفاقی حکومت بھی اپنا موقف پیش کرے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے سرنڈر کرنے کی تاریخ سے متعلق فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے سماعت 10 ستمبر تک ملتوی کردی۔

جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے استفسار کیا کہ اس وقت نواز شریف کی حیثیت کیا ہے ؟ کیا وہ ضمانت پر ہیں یا نہیں ؟ نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے بتایا کہ ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کی میرٹ پر ضمانت منظور ہوئی، وہ علاج کیلیے بیرون ملک گئے، واپس نہ آنے کی وجوہات درخواست میں لکھی ہیں، پنجاب حکومت نے نواز شریف کی درخواست ضمانت مسترد کر دی۔

 اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ کیا ضمانت ختم ہونے کے بعد نواز شریف کو عدالت میں سرنڈر نہیں کرنا چاہیے تھا ؟ اس پر خواجہ حارث نے کہا کہ نواز شریف کا کیس منفرد ہے، سرنڈر نہ کرنے پر عدالت کو تفصیلی طور پر آگاہ کروں گا، نواز شریف کو جو بیماریاں تھیں، اس کا علاج پاکستان میں ممکن نہیں۔

جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے آج کی سماعت کا تحریری حکم جاری کردیا جس کے مطابق عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو سرنڈر کرنے کے لیے 9 روز کی مہلت دی ہے۔ عدالت نے اپنے تحریری حکم نامے میں کہا کہ العزیزیہ ریفرنس میں نوازشریف کی ضمانت غیر موثر اور ختم ہوچکی جب کہ وہ عدالت کے سامنے بھی پیش نہیں ہوئے، نواز شریف 10 ستمبر تک عدالت کے سامنے سرنڈر کریں اور آئندہ سماعت تک عدالت میں پیشی یقینی بنائیں۔

حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ نیب نے نواز شریف کو مفرور قرار دینے کی استدعا کی،       عدالت کو بتایا گیا کہ مفرور قرار دینے کے باوجود اپیلوں پر فیصلہ کیا جاسکتا ہے، ڈپٹی اٹارنی جنرل نے نواز شریف کی صحت سے متعلق حکومتی ہدایات کے لیے وقت مانگا، ڈپٹی اٹارنی جنرل آئندہ سماعت پر حکومتی ہدایات لے کر نواز شریف کی صحت سے متعلق آگاہ کریں۔

حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف کی ضمانت 27 فروری کو ختم ہو چکی ہے، نواز شریف کی جانب سے طبی بنیادوں پر حاضری سے استثنیٰ کی درخواست جمع کرائی گئی، نواز شریف نے نام ای سی ایل سے نکلنے اور بیرون ملک جانے سے متعلق عدالت کو آگاہ نہیں کیا لہذا عدالت مناسب سمجھتی ہے کہ نواز شریف کو سرنڈر کرنے کے لیے موقع فراہم کیا جائے۔

عدالت نے حکم نامہ میں کہا کہ نواز شریف متعلقہ اتھارٹیز کے سامنے سرنڈر کریں اور آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش ہوں، نواز شریف کے سرنڈر نہ کرنے کی صورت میں ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔



Post a Comment

اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں

 
Top