بماکو: افریقی ملک مالی میں مبینہ فوجی بغاوت کے بعد صدر ابراہیم بوبکر مستعفی اور پارلیمان تحلیل کردی گئی ہے۔

مالی میں گزشتہ کئی ماہ سے کرپشن اور بدترین سیکیورٹی صورت حال کے خلاف جاری مظاہروں کے بعد بالآخر فوج نے مداخلت کرتے ہوئے حکومت کا تختہ الٹ دیا۔

مالی کے باغی فوجیوں نے صدر ابراہیم موسی اور ان کے حکومتی رفقا میں سے بعض اعلی حکام کو اپنی حراست میں لے لیا تھا جس کے بعد صدر نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے اور پارلیمان کو تحلیل کرنے کا اعلان کیا۔ 

سرکاری ٹیلی وژن پر مختصر خطاب کرتے ہوئے صدر ابراہیم بوبکر کا کہنا تھا کہ وہ ملک کو خونریزی سے بچانے کے لیے اپنے عہدے سے مستعفی اور پارلیمان کو تحلیل کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔ یہ خطاب انہوں نے چند گھنٹے قبل دارالحکومت بماکو میں باغی فوجیوں کی جانب سے سرکاری رہائش گاہ پر نظر بند کیے جانے کے بعد کیا۔


مالی کے باغی فوجیوں نے صدر اور وزیر اعظم کو اپنے قبضے میں لے لیا تھا جس کے بعد دونوں نے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا، تاہم اس سے ملک مزید شدید سیاسی انتشار کا شکار ہوگیا ہے۔

یورپی یونین اور افریقی یونین کی جانب سے مالی میں فوجی بغاوت کی مذمت کی گئی ہے جب کہ اقوام متحدہ نے مالی کے صدر سمیت گرفتار رہنماؤں اور کابینہ اراکین کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

مالی کی صورت حال پر غور کے لیے سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس آج ہو گا۔


Post a Comment

اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں

 
Top